اوکاڑہ: انجمن مزارعین کی جدوجہد کا پس منظر

| رپورٹ: قاسم گوندل |

یہ تنظیم 2001ء کے اواخرمیں اوکاڑہ کے مزارعین نے ریاست کے سب سے طاقتور ادارے فوج کے جبر سے تنگ آکر بنائی۔ اس تنظیم کی سیاست اوراسکے مقاصد کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے ہمیں اوکاڑہ کے ان مزارعین کی تاریخ کا جائزہ لینا ہوگا۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں انگریزسامراج نے برصغیرمیں اپنے قدم جماتے ہوئے ہندوستان کے مختلف زرخیزعلاقوں کواپنی تحویل میں لے لیا اوران علاقوں کو بڑا نہری نظام  دے کر آباد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کی تکمیل کیلئے پنجاب اور ہندوستان کے دیگرعلاقوں کے لوگوں سے بیگار پر کام کروایا اوربعد میں یہی زمینیں ان ہی لوگوں سے آباد کروائیں اوران کو ایک نئے پیداواری رشتے میں باندھ دیا۔ اوکاڑہ میں لور(Lower) باری دواب کا منصوبہ تکمیل کیا گیا اور اسی نہرکا پانی ملٹری فارم کو سیراب کرتا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبہ پنجاب میں انگریز ملٹری کے پاس تقریباً 160,000 ایکڑزمین تھی جوبعد میں جوں کی توں پاکستانی فوج کووراثت میں مل گئی۔ 1913ء سے یہ مزارعین بٹائی نظام (Share Croping) کے تحت یہ زمینیں کاشت کررہے تھے۔ انگریزملٹری کی طرف سے مزارعین کو یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ متعین مدت کے بعد ان زمینوں کی ملکیت ان کو دے دی جائیگی۔ پر یہ وعدہ تونام نہاد آزادی کے بعد بھی پورا نہیں کیا گیا۔ اس زمین سے انگریز ملٹری نے کئی قسم کے فائدے لئے اورنفع کمایا جو بعد میں ہندوستان میں ابھرنے والی محنت کشوں کی تحریکوں کوکچلنے کے لئے استعمال کرتی رہی۔ یہ تو کہانی ہے آزادی سے پہلے کی، اب ذرا اس کے بعد کی صورتحال پرنظر ڈالیں توپتہ چلتا ہے کے پاک فوج نے وہاں کے مزارعین کو مالکانہ حقوق تو دورکی بات بلکہ لیزکی رقم بھی نہیں ادا کی۔ میں نے جب مزارعین سے آزادی کے بعد کے حالات پوچھے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے آزادی نہیں لی گئی تھی، کیونکہ ہمیں ایک فوج کے قبضے سے نکال کر دوسری کی غلامی میں دے دیا گیا۔ فوجی ہم سے زیادہ پیداوار کا مطالبہ کرتے تھے اورجب پیداوارمیں اضافہ نہ ہو تو وہ مزارع کونکال دیتے تھے۔ بیسویں صدی کے آخر تک مزارعین کو پکا گھر بنانے کی اجازت نہ تھی، ہرجگہ فوج کے ناکے لگے ہوئے تھے، دیہاتوں میں سکول، بجلی، سڑک، ڈسپنسری اوردوکان جیسی کوئی بنیادی سہولت میسرنہ تھی۔ 2002ء میں اعلان کیا گیا کہ مزارع نظام ختم کر کے (Rent in Cash) کا نظام لاگو کیا جائے گا جس میں ملٹری زمینیں مزارعین کو 3 سے 5 سال کی مدت تک Rent پردے گی اوران کے گھروں پر فی کمرہ 200 روپے کرایہ لگائے گی۔ اعلان کے بعد تمام مرد مزارعین کو ایک میدان میں اکٹھا کر لیا اور پھر جنرل مہدی شاہ کی زیرنگرانی معاہدے پر انگوٹھے لگوائے۔ فوج کے اس براہ راست استحصال اور جبر نے ان کوایک سوچ اورنظریہ دیا جس کا اندازہ اس نعرے لگایا جاسکتا ہے کہ ’’جو ہل چلائے وہی کھائے، جوبوئے وہی کاٹے‘‘ اوراس نظریہ کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک تنظیم بنائی جس کا مرکز اوکاڑہ کا گاؤں خورد تھا، جوآہستہ آہستہ اوکاڑہ کے باقی دیہات میں بھی پھیلتی گئی اوراب اس میں تقریباً پنجاب کے سارے ملٹری فارموں کے مزارعین شامل ہیں۔ فوج اور مزاعین کے درمیان طبقاتی کشمکش آج تک جاری ہے۔