رپورٹ:کامریڈ نذر مینگل:-
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں محنت کشوں کی مختلف تنظیمیں اپنے اپنے مطالبات کے لئے سخت احتجاج پر ہیں۔ آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن نے پچھلے چند مہینوں سے کلرک برادری کے فوری حل طلب مسائل کے حل کیلئے احتجاجی جلسے ، مظاہروں اور سول سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس دوران حکومتی وفد نے کلرکس ایسو سی ایشن سے مذاکرات کئے اور انکے جائز مطالبات تسلیم کر کے حل کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی جس پر کلرکس ایسوسی ایشن نے اپنی تحریک کو مؤخر کر دیا۔ لیکن اسکے باوجود حکومتی یقین دہانی بارآور ثابت نہیں ہو سکی۔ کلرک برادری نے پھر سے اپنی مؤخر کر دہ تحریک کا آغاز کر دیا۔ وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس روڈ پر زبر دست دھرنا دیا جس میں محنت کشوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جو پورے بلوچستان سے آئے ہوئے تھے۔ حکومت بلوچستان نے کلرکس برادری کے تسلیم شدہ مطالبات اور مسائل کو حل کرنے کی بجائے دھرنے کو سبو تاژ کرنے کے لئے پولیس فورس کی بھاری تعداد منگوا کر نہ صرف لاٹھی چارج کیا بلکہ بد ترین شیلنگ کے ساتھ فائرنگ بھی کی اور اس دوران کئی ملازمین زخمی بھی ہوئے۔ سینکڑوں کی تعداد میں کلرکس کو گرفتار کر کے مختلف تھانوں میں قید کر دیا گیا۔ ان میں کلرکس ایسو سی ایشن کے صوبائی صدر دادمحمد بلوچ اور دیگر عہدیداروں کو بھی گرفتا ر کیا گیا جو تاحال جیل کی سلاخوں میں قید و بند کی صعوبتیں بر داشت کر رہے ہیں۔ PTUDC کے ایک وفد نے کامریڈ نذر مینگل کی قیادت میں سینٹرل جیل کوئٹہ میں داد محمد بلوچ سے ملاقات کی۔ اس دوران داد محمد بلوچ نے بتایا کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ ہم جیل سے اس وقت باہر نکلیں گے جب تک ہمارے تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے اور ہمارے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات غیر مشروط طور پر ختم نہیں ہوتے۔ اس دوران PTUDC کے وفد نے کلرکس ایسو سی ایشن کو اپنی طرف سے مکمل حمایت و تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اب تک کلرکس ایسو سی ایشن کی احتجاجی تحریک چل رہی ہے۔ پورے بلوچستان میں دفاتر کو بند کر دیا گیا ہے۔ مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ پورے بلوچستان میں چل رہا ہے لیکن اس کے باوجود عوامی نمائندوں اور ارباب اقتدار ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور مسائل سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور تحریک کو ختم کر نے کے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے جس کی PTUDCبھر پور مذمت کر تی ہے۔
آل گورنمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن کی جد وجہد
اسی طرح آل گور نمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن بھی اپنے مطالبات کے حل کے لئے پورے بلوچستان میں سخت احتجاج کر رہی ہے۔ ٹیچرز نے بھی حکومت اور بیو روکریسی کے استاد دشمن رویے اور مسائل کے حل کے لئے سیکر ٹریٹ چوک پر ایک زبردست دھرنا دیا۔کلرکس کی طرح حکومت نے ٹیچرز برادری پر بھی ظالمانہ رویہ اختیار کر تے ہوئے دھرنے پر پولیس کے ذریعے ہلا بول دیا۔ زبر دست شیلنگ کی گئی اور ٹیچرز پر بے رحمانہ تشدد کیا جس سے درجنوں زخمی ہوئے اور سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد آل گورنمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن نے تا دم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ پریس کلب کے سامنے ایک بڑا ٹینٹ لگا کر بڑی تعداد میں ٹیچرز بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ کافی دن گزرنے کے بعد اب بہت سے ٹیچرز کی حالت خراب ہو چکی ہے اور بہت سے اب بیہو ش ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حکمران طبقہ ٹیچرز برادری کو مکمل نظر انداز کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹیچرز برادری کی جانوں کو خطرہ ہے اور اس کے ساتھ تعلیمی ادارے متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت کی بے حسی کو مد نظر رکھتے ہوئے انجمن تاجران اور تمام سیاسی جماعتوں نے ٹیچرز کی حمایت اور حکمرانوں کے ظالمانہ روش کے خلاف 29مئی کو کوئٹہ شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جو انتہائی کامیاب رہی۔ پورے کوئٹہ میں ہڑتا ل تھی۔ PTUDCکے وفد نے آل گورنمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور اس دوران کامریڈ نذ ز مینگل نے ٹیچرز سے خطاب بھی کیا اور انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا اور حکمرانوں کے ظلم و جبر، ناانصافی، استحصال، پولیس لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ فی الفور ٹیچرز کے تمام مطالبات تسلیم کر کے ان پر عمل درآمد کیا جائے بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا۔