[رپورٹ: BNT ٹیکسلا/واہ]
بے روز گار نوجوان تحریک (BNT) کے زیر اہتمام واہ کینٹ میں مورخہ 6 جون کو ایک محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ محفل مشاعرہ کا مقصد شاعروں اور ادیبوں کو بے روز گار نوجوان تحریک سے روشناس کراتے ہوئے اس جدوجہد میں شامل کرنا تھا۔ محفل مشاعرہ میں نظامت کے فرائض کامریڈ چنگیز نے ادا کئے۔ محفل مشاعرہ کی صدارت معروف شاعر اور تین شعری مجموعوں کے خالق قمر رضا شہزاد نے کی جبکہ مہمان خصوصی معروف شاعر اختر رضا سلیمی تھے۔ مہمان اعزاز انقلابی رہنما اور شاعر کامریڈ پارس جان اور پی او ایف ورکمین ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری رانا ظفر اقبال تھے۔
محفل مشاعرہ کا آغاز BNT کے تعارف اور اغراض و مقاصد پر مبنی کامریڈ ولید کے مضمون سے ہوا۔ کامریڈ ولید نے پاکستان میں بیروزگاری کی کیفیت اور نوجوانوں پر بیروزگاری کے منفی اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر کو BNT کی جدوجہد کے ساتھ جڑنے اورسرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے غیر طبقاتی سماج کی تشکیل پر زور دیا۔
اس کے بعد انقلابی رہنما کامریڈ پارس جان نے مارکسزم اور فن و ادب پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ کامریڈ پارس جان نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں شاعر ادیب اور فنون لطیفہ سے منسلک خواتین و حضرات سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور معاشرے کی تمام تر برائیوں، اذیتوں، غلاظت اور تضادات کو شعری، نثری یا فنون لطیفہ کی کسی بھی صنف میں خوبصورت انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ محنت کشوں، نوجوانوں اور معاشرے کی دیگر پرتوں کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے انقلابی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے فن و ادب کو بھی حکمرانوں کے ایوانوں کی زینت بنا دیا ہے، اس کو آزاد کرنے کا واحد طریقہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔ یہ لازم ہوچکا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک غیر طبقاتی سماج کی تشکیل کی جائے تاکہ فن و ادب اپنی اصل شکل میں آ تے ہوئے اپنا معاشرتی کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔
اس کے بعد پی او ایف ورکمین ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری رانا ظفر اقبال نے ادب، محنت کشوں اور نواجوانوں کی جدوجہد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیروز گاری ایک بہت بڑی اذیت ہے، بیروزگار نوجوان تحریک نے ایک انقلابی جدوجہد کا آغاز کیا ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ BNT کی اس جدوجہد کا بھرپور ساتھ دیں اور ایک انقلابی تبدیلی کے راستے کو ہموار کریں۔ رانا ظفر نے مزید کہا کہ آ ج کے شعراء اور ادیبوں سے ہمیں گلہ ہے کہ فن ادب میں محنت کشوں کا تذکرہ بہت کم ہوتا ہے، محنت کش دنیا کی ہر چیز کو چلا رہے ہیں، اگر محنت کش اپنا ہاتھ روک دیں تو یہ نظام زندگی رک جا ئے، یہ سماج رک جائے، ان کو وہ عزت اور تکریم آج کے فن و ادب میں نہیں دی جا رہی جو کہ ان کا حق ہے۔
اس کے بعد باقاعدہ محفل مشاعرہ کا آغاز ہوا اور شعراء کو اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے شعراء نے اپنا کلام سنا کر خوب داد سمیٹی۔ محفل مشاعرہ میں شریک شعراء میں الماس منظر کاظمی، شکیل شاکی، نیئر سیف، کامران اسیر ساگر، دلاور علی آذر، سجاد بلوچ، حسن جمیل، فیصل ساغر، حفیظ اللہ بادل، نوشیر وان عادل، شمشیر حیدر، ثاقب کلیم، عصمت حنیف، امجد شہزاد، الیاس بابر اعوان، عمران عامی، رانا سعید دوشی، طالب انصاری، پارس جان، اختر رضا سلیمی اور صدر مشاعرہ قمر رضا شہزاد شامل تھے
محفل مشاعرہ کے اختتام پر صدر مشاعرہ قمر رضا شہزاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی محنت کشوں کے حوالے سے شاعری ہو رہی ہے لیکن میڈیا کی بد نیتی اور کمرشلائزیشن کی وجہ سے وہ منظر عام پر نہیں آ رہی، اس کے حوالے سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
بیروزگار نوجوان تحریک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جب نوجوانوں کو روزگا ر نہیں دیا جاتا تو وہ منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں اور معاشرے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ اگر لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا توانقلاب ناگزیر ہے۔ اس تقریب کے تمام شرکاء نے پروگرام کو سراہتے ہوئے BNT کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دینے کا عظم کیا اورسماج کی وسیع تر پرتوں تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے تسلسل کے ساتھ اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد پر زور دیا۔