[رپورٹ: بخت نیاز]
6 دسمبر کی صبح ڈیرہ اسماعیل میں ٹانک اڈا کے غریبوں کے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھی جب ضلع کونسل کے عمائدین نے جماعت اسلامی کے قبضہ گروہوں کی ایما پر ’’ریاستی رٹ‘‘ قائم کرنے کے لئے دہشت گردوں اور طالبان کی بجائے غریب ریڑھی بانوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے ہمراہ ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے میں مصروف ہے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے وزیر بلدیات عنایت اللہ اور وزیر مال علی خان کی آشیر باد سے ڈی سی او، ضلع میونسپل آفیسر، تحصیل میونسپل آفیسر اور دیگر انتظامی افسران اور پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں کے ہمراہ عمارات گرانے والے ایکسی ویٹرز اور ٹریکٹر ٹرالیوں، بندوقوں اور لاٹھیوں سے لیس ہو کر ریڑھی بانوں پر ٹوٹ پڑے۔ جماعت اسلامی کے وزرا اس 84 کنال اراضی کو خود ہتھیانا چاہتے ہیں جو بلدیہ نے غریبوں کو 2015ء تک لیز پر دے رکھی ہے اور کرایہ بھی وصول کیا جاچکا ہے۔ یہ جگہ کسی بھی قانون کے تحت ناجائز تجاوزات کے زمرے میں نہیں آتی۔ اس کے برعکس ضلع کونسل اور تحصیل کونسل کی کھربوں روپے کی اراضی پر سرکاری مولوی، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے چہیتے اور ارب پتی سرمایہ دار غیر قانونی طور پرقابض ہیں مگر ان کے خلاف کسی قسم کا آپریشن نہیں کیاجاتا۔
آپریشن کا آغاز چھوٹی دکانوں اور ریڑھی بانوں کے سامان کو بلدیہ کی گاڑیوں میں ڈالنے سے کیا گیا۔ سرکاری اہلکاروں اور ڈی سی او نے لیز کے کاغذات اور 2015ء تک جمع کرائے گئے کرائے کی رسیدیں دیکھنے سے انکار کردیا اور دوکانوں کو مسمار کرنے کا حکم دیا۔ چھوٹے دوکانداروں نے جب اپنی اور اپنے بچوں کی روزی کو یوں لٹتے دیکھا تو خود کو دوکانوں کے اندر محصور کرلیا اور کہا کہ وہ ان دکانوں کے ملبے میں دفن ہو کر مرنا پسند کریں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے جس پر مسلح پولیس نے تشدد کا بازار گرم کردیا۔
اس ریاستی وحشت کی اطلاع جب محنت کش رہنما کامریڈ علی وزیر تک پہنچی تو فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور ڈی سی او سے آپریشن معطل کرنے کو کہاجس پر تلخ کلامی اور تصادم شروع ہو گیا۔ اسی دوران مقامی نوجوان اور محنت کش بھی جمع ہو کر احتجاج کرنے لگے اور حالات ضلعی انتظامہ کے قابو سے باہر ہونے لگے۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کے نام پر علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا جس کے رد عمل میں عوام نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا۔ علی وزیر اور انکے ساتھیوں کو پہلے تھانے اور بعد ازاں دہشت گردوں کے لئے مخصوص ٹارچرسیل میں منتقل کردیا گیا۔ گومل یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ کو جب علی وزیر کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو انہوں نے شہر کی شاہراہوں کو بند کردیا اور احتجاج کا دائرہ وسیع ہونے لگا۔ عوامی رد عمل سے خوفزدہ ہو کر ضلعی انتظامیہ نے علی وزیر اور انکے ساتھیوں کو ٹارچر سیل سے فوجی چھاؤنی منتقل کردیا اور انکے خلاف زیر دفعہ 427/337 2A-506/353 -34/1 -148/149 786PPC مقدمہ نمبر980 کے تحت کاروائی شروع کردی۔ ملاکنڈ میں جماعت اسلامی کی فتویٰ گری سے برسر پیکار کامریڈ غفران احد بھی انقلابی ساتھیوں کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے اور مقامی وکلا کے ہمراہ ضمانت کی درخواست دائر کر دی۔ اتوار کی چھٹی اور ناقابل ضمانت دفعات کے باوجود عوام کا جم غفیر عدالت کے باہر دیکھ کر مجسٹریٹ کو ضمانت منظور کرنا پڑی جس کے بعدپورے شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ واقعہ کے بعد علی وزیر کے اعزاز میں مختلف تعلیمی اداروں اور بازاروں میں تقاریب منعقد کی جارہی ہے۔ 7 دسمبر کو علی وزیر اور انکے ساتھیوں کی مزاحمت سے اظہار یکجہتی کے لئے صبح 9 بجے سے دن 11 بجے تک شہر میں مکمل پہیہ جام ہڑتال ہوئی اور ہر طرح کی ٹریفک بند کردی گئی۔
اس شکست کے بعد جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا لینڈ مافیا فی الوقت اپنے زخم چاٹ رہا ہے مگر یہ غریب دشمن رجعتی عناصر پلٹ کر وار کریں گے۔ غریب عوام کی اس کامیابی کو ریڑھی بانوں، چھوٹے دوکانداروں، طلبہ اور محنت کشوں کی مشترکہ دفاعی کونسل قائم کر کے دوام بخشا جاسکتا ہے جس کے لئے جدوجہد کی جارہی ہے۔
