فیصل آباد: پیرا میڈیکل سٹاف کا احتجاج نئے مرحلے میں داخل

تحریر:PTUDCفیصل آباد:-
فیصل آباد الائیڈ ہسپتال میں پیرا میڈیکل سٹاف کا احتجاج آج تیسرے روز بھی جاری رہا۔مزدوروں نے ہڑتال کا آغاز چوک اکبر آباد سے الائیڈ موڑ تک ریلی نکال کر کیا۔ریلی میں خواتین ورکرز نے بھرپور شرکت کی۔اس کے بعدتما م مزدور الائیڈ ہسپتال کے احاطے میں ،ایک جلسے کی صورت میں اکٹھے ہو گئے۔فیصل آباد سمیت پورے پنجاب میں درجہ چہارم کے مزدور سروس سٹرکچر کی منظوری کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔اس سے پہلے 12مئی 2012 کو بھی پنجاب بھر کے پیرامیڈیکل سٹاف نے ہڑتال کی تھی۔
پچھلے ایک سال کے دوران ملک بھر میں ،میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملازمین سروس سٹرکچر کی منظوری کے لئے انتظامیہ کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے۔ڈاکٹرز،نرسیں اور اب پیرامیڈیکل سٹاف میدان عمل میں آ چکے ہیں۔ڈاکٹرز کو اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لئے کئی روز تک ہسپتال بند رکھنا پڑے۔حکومت پنجاب کی بھر پور کوشش کے باوجود ڈاکٹرز (کسی حد تک) اپنی تنخواہوں میں اضافہ منظور کروانے میں کامیاب رہے ۔ ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں اضافہ رکوانے کے لئے پنجاب حکومت نے ہر طریقہ استعمال کیا۔ڈاکٹرز کو بے حس اور عوام دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ نرسوں نے بھی تنخواہوں میں اضافے کی خاطر پنجاب حکومت کے شدید دباؤ کے باوجود ۔۔۔۔ اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی اسی شیطان سے لڑ رہے ہیں۔
12 مئی2011ء کو شہباز شریف نے پیرا میڈیکل سٹاف کے سروس سٹرکچر منظور کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن 1 سال گزرنے کے باوجود سروس سٹرکچر نافذ نہیں ہوا۔جس کے خلاف پنجاب بھر میں پیرا میڈیکل سٹاف نے یوم سیاہ منایا تھا۔12 مئی کے بعد سے شروع ہونے والے مذاکرات اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہو سکے۔ لیکن ورکرز کا جذبہ ابھی بھی اسی طرح قائم ہے جس عزم کے ساتھ 12 مئی کوانھوں نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ہفتہ20 جون کو ورکرز نے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال کرنے کا آغاز کیا۔صوبہ بھر میں جاری اس جدوجہد نے انتظامیہ کو پریشان کر دیا۔ پنجاب کے تمام ہسپتال اس ہڑتال سے متاثر ہو رہے ہیں۔سوموار کے روز صوبائی انتظامیہ نے مزدوروں کے نمائند گان کو مذاکرات کے لئے طلب کیا۔لیکن وزیر اعلیٰ کے مشیر خواجہ سلمان رفیق کی قیادت میں ہونے والے اجلاس میں نہ صرف مطالبات ماننے سے انکار کر دیا بلکہ مزدوروں کی طرف سے ہڑتال ختم نہ کرنے کی صورت میں پولیس گردی کی بھی دھمکی دی۔ پیرا میڈیکل سٹاف کے مطالبات کو فنڈز نا ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔
موجودہ پنجاب حکومت نے محنت کش طبقے پر کئی حملے کئے ہیں اور اس کی وجہ فنڈز کی کمی بتائی جاتی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کے4 سال میں فنڈز کے استعمال کو دیکھا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ اس حکومت کی تر جیحات کیا ہیں۔پچھلے 4 سالوں میں اربوں روپے کے فنڈز فضول قسم کے پراجیکٹس پرخرچ کئے گئے ہیں ۔ پیرا میڈیکل سٹاف کے سروس سٹرکچر کے نفاذ کے لئے 1.5 ارب روپے درکار ہیں جوکہ حکومت دینے کے لئے تیا ر نہیں ۔بیوروکریسی صحت کے شعبے میں مختص کئے گئے فنڈز میں سے ورکرز کا حصہ دینے کے لئے تیارنہیں ہے ۔دوسری طرف شہباز شریف نت نئی فنکاریوں کے ذریعے محنت کش طبقے میں اپنی ساکھ بنانے کی کوشش کرتا نظرآتا ہے۔اور اس کی ہر فنکاری محنت کش طبقے کے لئے اربوں روپے کے ضیا ع کا باعث بنتی ہے۔
منگل کے روز فیصل آباد کے DCOنے پیرامیڈیکل سٹاف کے نمائندگان کومذاکرات کے لئے مدعو کیا۔ اور مزدوروں کے نمائندگان کے مطابق انھیں ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔لیکن مزدور رہنماؤں نے انکار کرتے ہوئے ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے محنت کش اپنے حقوق کے لئے شاندار ہمت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے ۔ لیکن درجہ چہارم کے مزدوروں کی اس جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ڈاکٹرزاور نرسز سمیت دوسرے اداروں میں اپنے حقوق کے لئے لڑتے ہوئے مزدورں کو مشترکہ دشمن کے خلاف منظم کیا جائے اور مشترکہ مسائل پر اتحاد کرتے ہوئے حکمرانوں سے اپنا حق چھین لیا جائے۔

متعلقہ:

فیصل آباد:پیرامیڈیکل سٹاف کا احتجاج

فیصل آباد میں پیرا میڈیکل سٹاف کا احتجاج