سامراج اور آزاد تجارت کے نئے معاہدے

[تحریر: ڈینیئل مورلے، ترجمہ: حسن جان]
عالمگیریت کے بلبوتے پر ہونے والی ترقی کا دور گزر چکا ہے۔ دو ایسے بڑے تجارتی معاہدوں پر بحث ہو رہی ہے جو امریکہ کو اس کے مرتب کردہ حلقہ اثر، جو بحر الکاہل کے دونوں اطراف سے لے کر مشرقی یورپ تک پھیلی ہو ئی ہے، میں مرکزی حیثیت دے گی۔ لیکن دنیا کو تجارت کے لیے مزید کھولنے اور سرمایہ داری کو بیڑیوں سے آزاد کرنے کی بجائے یہ معاہدے جو امریکہ نے اپنے مفاد کے لیے کیے ہیں دنیا کو دو یا دو سے زیادہ بلاکوں میں تقسیم کر دیں گے، جو آپس میں معاشی جنگ کریں گے۔ یہ آزاد تجارت کے لبادے میں تحفظیت پسندی ہے۔
آزاد تجارت اور تحفظ پسندی دو متضاد چیزیں نہیں بلکہ منافع حاصل کرنے کی ناگزیر دوڑ میں سرمایہ دارانہ سکے کے دو رخ ہیں۔ امریکہ چینی ریاست کی اپنی سرمایہ داری کو تحفظ فراہم کر نے کے خلاف بات کر تا ہے جس طرح 150 سال پہلے برطانیہ نے یورپ کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن اپنی باری پر امریکہ اور برطانیہ نے اپنی سرمایہ داری کو بغیر کسی مدد کے دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے اسے ریاستی تحفظ فراہم کیا۔ تحفظ پسندی کو داخلی آزاد منڈی کے قیام کے لیے استعمال کیا گیا اور کیا جا رہا ہے۔ یعنی ’غیر منصفانہ ‘ عالمی مقابلہ بازی سے آزاد۔ اسی طرح آج آزاد تجارت کو کمزور ممالک پر لاگو کیا جا رہا ہے تاکہ امریکی اور یورپی کمپنیوں کو ’غیر منصفانہ‘ چینی مقابلہ بازی سے تحفظ دیاجاسکے۔ دونوں پالیسیاں ایک دوسرے سے مشروط اور تبادل پذیر ہیں۔
سرمایہ داری کے تضادات کی پیچیدگی کا مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی بھی عالمی سطح پر ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتی۔ اس کی عالمی سطح پر غیر ہموار ترقی اور ناگزیرسیاسی تضادات کا مطلب یہ ہے کہ آزاد تجارت اور نسبتی استحکام کے ادوار دراصل عدم استحکام اور تحفظ پسندی کے لیے نئے ادوار کا پیش خیمہ ہیں۔ واضح طور پر عالمی تجارت کی دیو ہیکل پیش رفت سے چین کو فائدہ ہوا ہے جو اس عمل کا اہم حصہ رہا ہے۔ لیکن عالمگیریت کی اسی بڑھوتری کی وجہ سے ہی چین کی معیشت اتنی دیو ہیکل ہو چکی ہے کہ امریکی غلبے کو للکار سکے۔ بالخصوص جب ہم انقلاب کے نتیجے میں امریکہ سے سیاسی آزادی کی بات کر تے ہیں جس نے چین کو سامراجی غلامی سے نجات دی۔ اسی طرح ترقی اور استحکام کے ادوار نے تحفظ پسندی اور عدم استحکام کے نئے دور کو جنم دیا۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد کی دو دہائیاں امریکی غلبے کے زیر اثر ڈبلیو۔ ٹی۔ او کے ذریعے عالمگیریت سے عبارت تھیں۔ عالمی منڈی کے کھولنے اور اس کے پھیلاؤ میں تقریباً تمام اہم معیشتیں شامل تھیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی مغربی غلبے کے لیے خطرہ نہیں تھی۔
’’عالمی تجارتی تنظیم کی نسبتی گمنامی اور اسی وقت خصوصی تجارتی معاہدوں، جن میں سے دو ہونے ہی والے ہیں (ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ اور ٹرانس اٹلانٹک ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ پارٹنر شپ) سے یہ لگتا ہے کہ ہم زیادہ تحفظ پسندی کے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ جہاں بڑے تجارتی بلاک عالمی تجارت کے سامنے رکاوٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔‘‘ (ایلن ووڈز)
امریکہ کی طرف سے کیے گئے حالیہ تجارتی معاہدوں کے سر سر ی تجزیے سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ معاہدے معاشی سے زیادہ سیا سی نوعیت کے ہیں۔ یورپی یونین خود بنیادی طور پر ایک فری ٹریڈ زون ہے جو بڑی حد تک اس لیے بنا تاکہ جر منی اور کسی حد تک فرانس کو اس قابل بنا یا جائے کہ اپنی معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھا کر عالمی سطح پر دیو ہیکل امریکہ کا مقابلہ کر سکے۔ اس مقصد کے لیے کمزور یورپی ریاستوں کو استعمال کیا گیا تاکہ خطے کی معاشی اور سیاسی اہمیت کو، جرمنی اور فرانس کی مؤثر قیادت میں‘بڑھایا جائے اور انہیں (جرمنی اور فرانس) منڈی کے بڑے حصے پر غلبہ اور عالمی رہنما ہونے کا شرف حاصل ہو۔
یہ بات بہت ہی ستم ظریفانہ ہے کہ کمزور یورپی یونین کو اب مجبوراً بڑی طاقتوں کی جغرافیائی سیاست کے لیے کمزور ریاستوں کو استعمال کرنے کا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ TTIP سے (امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان طے شدہ آزاد تجارت کا معاہدہ) یورپی اور امریکی سرمایہ، چین اور روس کے خلاف ایک بلاک میں متحد ہوگا اور یہ یورپی یونین کی امریکہ کے مدمقابل طاقت بننے میں ناکامی کا اظہار ہے۔ یوروزون کے بحران اور اس سے جنم لینے والی یورپی طاقت کی کمزورکیفیت کی وجہ سے اسے کریمیا میں سیاسی اور فوجی شکست ہوئی ہے۔ اس شکست کی وجہ سے اب مغربی یورپ امریکی طاقت کے پیچھے چھپ رہی ہے، جس طرح ایک چھوٹا بچہ اپنے والدین کے پیچھے چھپتا ہے۔
لیکن یورپی یونین کا امریکہ سے مقابلہ ترک کرنے کا رجحان حالیہ واقعات سے بھی پرانا ہے جس نے محض عمارت کی خستہ حالی کو واضح طور پر دکھا دیا۔ بحران زدہ اور کٹوتیوں کے خوفناک سفر پر رواں یورپ کو پتہ ہے کہ چین کی پیداواری بڑھوتری اور کم اجرتیں ’مہذب اور فلاحی یورپ‘ کے خاتمے کا پیش خیمہ ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں عالمی تجارت میں یورپی یونین کے حصہ میں 45 فیصد سے 34 فیصد کمی ہوئی ہے جو مزید کم ہوگا۔ پچھلے سال یورپی یونین کو چین سے خطر ناک جھٹکا اس وقت لگا جب اس نے چین کے سولر پینل کی بر آمد ات پر دیو ہیکل ٹیکس لگائے۔ چین نے یورپی شراب پر علامتی طور پر ٹیکس لگا کر تجارتی جنگ کی دھمکی دی اور پیپلز ڈیلی کے اداریے میں کہا کہ یورپی یونین کو اپنے کم ہوتے ہوئے اثر و رسوخ کی کیفیت کو قبول کر نا ہو گا اور اپنی پیچیدہ اور نا اہل پالیسی سازی کے عمل کو ختم کرنا ہو گا۔ اُس وقت سے چین نے یورپی یونین کو نظر انداز کر کے انفرادی یورپی حکومتوں سے معاملات طے کرنے شروع کیے ہیں۔ یورپی سرمایہ دار چین کی آمرانہ ریاست کو حسد اور اپنی جھگڑالو حکومتوں اور باقی ماندہ مزدوروں کے حقوق کو نفرت کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں۔
ان وجوہات کی بنا پر یورپی قیادت تمام امریکی اجناس اور خدمات پر محصولات کے خاتمے اور، جس طرح TTIP میں ذکر ہے، امریکی کارپوریشنوں کو کنٹرول کرنے کے اپنے ہی حق کو بڑے پیمانے پر محدود کر نے پر غور کر رہے ہیں۔ وہ یہ سب اپنے شہریوں کے لیے روزگار اور دولت پیدا کرنے کے لیے نہیں کر رہے۔ امریکی اجناس اور خدمات پر یورپی محصولات پہلے ہی بہت کم یعنی 3فیصد ہے اور TTIP کے لاگو ہونے سے یورپی معیشتوں میں اگلے دس سالوں میں زیادہ سے زیادہ 0.5فیصد کی نمو کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یورپی لیڈروں کے پاس اس کے سوا اور کوئی نعم البدل نہیں کہ وہ عسکری طور پر طاقتور اور سیاسی طور پر متحد امریکہ کے ساتھ تعلقات بنائے اور کامیابی کے ساتھ ’’پیسفک سینچری‘‘ کے پیچیدہ معاملات طے کرے۔ اقتصادی نکتہ نظر سے، جسے ہم تھوڑی دیر میں واضح کریں گے، وہ TTIP کو عمومی نمو کے لیے نہیں بلکہ یورپی مزدوروں کو چینی مزدوروں کی طرح ’با کفایت‘ بنانے کی جد وجہد اور محنت کش طبقے کے خلاف کٹوتیوں پر قانونی پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
TTIP کی نسبت TPP زیادہ اہم اور زیادہ جغرافیائی سیاسی مقاصد رکھتی ہے۔ یہ مکمل طور پر واشنگٹن کا اقدام ہے۔ یہ قطعاً غیر جانبدار اور عالمی سرحدوں کو ختم کرنے کی معصومانہ کوشش نہیں ہے کیونکہ یہ ہر طرح سے چین کو ہدف بنانے اور اسے امریکہ کی شرائط پر قابو میں لانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ معاہدہ بحر الکاہل کے دونوں اطراف بارہ ممالک کے درمیان ہو رہا ہے تاکہ اس خطے کی منڈ ی کو کھول کر تجارت کو بڑھایا جا ئے جو عالمی سرمایہ داری کے لیے واضح طور پر مرکز ثقل بن رہی ہے۔ جیسا کہ یہ بات ہر کسی کے لیے واضح ہے کہ اس خطے کی اہمیت چین کی وجہ سے ہے جو دنیا میں اجناس کی تجارت میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔ یہ بات بہت عجیب ہے کہ ان بارہ ممالک کی فہرست میں چین شامل نہیں ہے۔
لیکن یہ عجیب بات نہیں ہے کیونکہ معاہدے کا مقصد امریکہ کے فائدے کے لیے چین کی پیش قدمی کو روکنا ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی (ماضی میں اپنی عسکری فتوحات کے ذریعے) خطے کے بہت سے ممالک جیسے جاپان اور جنوبی کوریا کی حمایت حاصل کر لی ہے اور اس کی طاقتور بحری فوج سمندرکے تجارتی راستوں پر قابض ہے۔ وہ اب اس سیاسی غلبے کو ایک ایسا معاہدہ تشکیل دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے جو اسے چین کی قیمت پر اسے قیادت کی ضمانت دے، ایک ایسے وقت میں جب یہ خطہ بڑی حد تک چین کی بدولت معاشی نمو کر رہا ہے۔ ڈیوڈ پلنگ نے فنانشل ٹائمز میں کہا ہے کہ، ’’TPP کے تحت، ویتنام میں پیدا ہونے والے اور امریکہ کو بھیجے جانے والے کپڑوں پر محصولات صفر ہو جائیں گے۔ یہ ویتنام کی پہلے سے بڑی کپڑوں کی صنعت کو بہت تقویت دے گی۔ تاہم اس کے لیے کپاس غالباً امریکہ سے ہی لانا پڑے گا۔ فی الحال ویتنام کی بڑی گارمنٹ صنعت کے لیے زیادہ تر کپاس چین سے آتی ہے۔‘‘
گلوبل ریسرچ میں جین کیسلے کے مطابق، ’’TPPA کے رہنماؤں کی میٹنگ میں اوباما نے ایسے عالمی معیارات قائم کرنے کی بات کی جو امریکہ، ایشیا، عالمی تجارتی نظام اور ایجادات اور ریاستی ملکیتی اداروں کے معاملات کو حل کرنے کے لیے کسی بھی ملک کے لیے اچھا ہو گا۔ مقابلے کا ماحول اور یکسا ں مواقع ملیں گے۔ سب سے بڑھ کر TPPA ایسے معیارات بنائے گی جو امریکہ کے فوجی اور معاشی غلبے کو دوبارہ استوار کرے گی۔‘‘ اُس نے یہ بات بھی کی کہ مٹ رومنی نے TPPA کی چین کے خلاف ڈرامائی جغرافیائی سیاسی اور معاشی پشتے کے طور پر توثیق کی۔ اور اوباما نے جواب میں کہ، ’’ہم چین کو چھوڑ کر دوسرے ممالک سے تجارتی تعلقات بنا رہے ہیں تاکہ چین بنیادی عالمی معیارات کے حوالے سے دباؤ میں آسکے۔ یہی وہ قیادت ہے جسے ہم نے خطے میں سامنے لا یا ہے اور لاتے رہیں گے۔‘‘
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چین کے خلاف امریکی سامراج کے مفادات کے لیے TPP کا ایک سیاسی کردار ہے اور تمام تر دوسرے ممالک اس جد وجہد میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر امریکی حکومت کو آزاد تجارت کی اتنی ہی فکر ہے تو ویتنام کو اس معاہدے میں کیوں دعوت دی ہے جو چین سے کم تحفظ پسند نہیں ہے ! اس کی وجہ یہ ہے کہ ویتنام چین کے خلاف ایک کار آمد اور قابل استعمال ہتھیار ہے اور یہ موقع بھی فراہم کرتاہے جس میں وہ چین کی بجائے امریکہ سے کپاس خریدے۔ اتفاق سے قواعد المنشا (Rules of origin) جو یہ شرط رکھتی ہے کہ TPP کے ایک ممبر ملک سے دوسرے ممبر ملک میں برآمدات تب ٹیرف فری ہونگے جب برآمدی مواد TPP ممالک میں ہی بنے ہوں، بذات خود ایک آزاد تجارت مخالف قانون ہے جسے امریکہ کو فائدے پہنچانے کے لیے ڈالا گیا ہے جو اس معاہدے میں سب سے بڑی معیشت ہے۔
ظاہر ہے کہ چین کو نکال کر بنایا جانے والا کوئی بھی آزاد تجارتی بلاک چین کی معاشی نمو کو متاثر کرے گا جو برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اس سے مزید واضح ہو جاتا ہے کہ TPP ایک تحفظیت پسند اقدام ہے جو معاشی نمو کو روکتی ہے۔ چین کا ناگزیر جوابی حملہ عالمی معیشت کو مزید بر سر پیکار بلاکوں میں تقسیم کرے گا جو عالمگیریت کو پیچھے دھکیلے گا۔ چین ایک مخالف بلاک، علاقائی ہمہ گیر معاشی شراکت داری (RCEP) کے لیے بات چیت کر رہاہے۔ جس میں بشمول چین اور ہندوستان، TPP کے تمام ممالک (امریکہ کو نکال کر) شامل ہیں۔
TPP اور RCEP کے قواعد تقریباً ایک جیسے ہیں۔ سوائے اسکے، کہ یہ ہر ملک کی معیشت کی انفرادیت کو تسلیم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ TPP کی نسبت کم تر سامراجی معاہدہ ہے جو چین کی سفارتی کمزوری کی عکاسی کر تا ہے۔ یہی مظہر ہمیں اس پالیسی میں نظر آتا ہے کہ چین جن ممالک سے تجارت کرتاہے، اُن کی داخلی سیاست میں مداخلت نہیں کرے گا۔ چین دنیا کے حکمرانوں کے ساتھ ’اچھے بر تاؤ‘ کے ذریعے عالمی اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
یہ حقیقت کہ سات ممالک کو دونوں معاہدوں TPP اور RCEP کے مجوزہ ممبران میں شامل کیا گیا ہے، سامراجی مفادات کے ٹکراؤ اور امریکی سامراج کے ہوتے ہوئے چینی سامراج کے اُبھار کے درمیان عدم مطابقت کو ظاہر کر تاہے۔ ’آزاد تجارتی دنیا ‘ ان متضاد معاہدوں کو یکجا کرنے سے کبھی بھی قائم نہیں ہوگی۔ حلقہ ہائے اثر کے اُوپر واضح جنگ ہو رہی ہے۔ نیوزی لینڈ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اگر TPP کو چین کے خلاف استعمال کیا گیا تو وہ اس سے الگ ہوجائے گا۔
واشنگٹن کے دو بڑے اسٹریٹجک تجارتی معاہدوں کا مقصد نہ صرف چین بلکہ عالمی محنت کش طبقے پر حملہ کرنا ہے۔ یہ دیوہیکل امریکی اجارہ داریوں کی طرف سے جارحیت ہے تاکہ دنیا بھر میں منڈی اور منافعوں کی مخالفت کو کچلا جائے اور یہ مخالفت صرف چین نہیں بلکہ منظم مزدور بھی کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ معاشی سے زیادہ سیاسی ہے۔ باراک اوباما نے جنوبی کوریا کے ساتھ جو آزاد تجارت کا معاہدہ کیا تھا اس سے عمومی معاشی ترقی اور روزگار پیدا نہیں ہوئے بلکہ اندازاً چالیس ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔ یہ عالمی سطح کی طبقاتی جنگ ہے۔ محصولات کو کم کرنے کے کام، جو سرمایہ داری کے سامنے ہرگز رکاوٹ نہیں ہے، سے کہیں زیادہ اہم وہ سیاسی قواعد ہیں جو ان معاہدوں سے نتھی ہیں جو مزدوروں کے حقوق اور ہر اُس چیز پر حملہ ہے جو منافعوں کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
TPP اور TTIP کی شرائط ایک جیسی ہیں جن کا مقصد ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کو ان معاہدوں میں شامل حکومتوں کی قانون سازی کے خلاف طاقت ور بنانا ہے، جس سے سامراجی بورژوازی کی عسکری سوچ کی غمازی ہو تی ہے۔ مارکسسٹوں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ سرمایہ داری کے تحت محنت کشوں کے لیے حاصل کی گئی مراعات کبھی بھی مستقل ضمانت نہیں ہیں بلکہ جاری طبقاتی کشمکش میں عارضی صلح ہیں۔ صرف سرمایہ داری کے خاتمے سے ہی محنت کشوں پر حملے بند ہونگے۔ تھیچر کی تیس سال کی نجکاری اور ڈی ریگولیشن اور حتٰی کہ پچھلے چند سالوں کی بے نظیر کٹوتیاں بھی کافی نہیں ہیں۔ اب مغرب کی سامراجی حکومتیں بلواسطہ طریقے سے اپنے آپ کو ایسے معاہدوں میں ڈھال رہی ہیں جو انہیں اُن تمام قوانین اور ریگولیشن سے آزاد کر دے گی جو اُنہیں بے قابو منافع خوری سے روک رہی تھی۔
حکومتوں کی طرف سے اپنی طاقت کو رضاکارانہ طور پر محدود کرنے اور شعوری طور پربڑی اجارہ داریوں کی طرف سے دائر مقدمات میں اپنے آپ کو ملوث کرانے کا عمل اُن کی اصل بورژوا خصلت کو ظاہر کرتا ہے۔ خارجہ پالیسیوں اور بالخصوص تجارت میں یہ بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ جہاں ریاست بورژوازی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا کردار ادا کرتی ہے۔
TPPاور TTIP کے مندرجات کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ یہ معاہدے خفیہ طور پر ہو رہے ہیں۔ حتٰی کہ متعلقہ ملکوں کے پارلیمانوں کو تاریکی میں رکھا گیا ہے۔ امریکی سینیٹر رسن ویڈن نے شکایت کی ہے کہ ’’کانگریس کی اکثریت کو TPP معاہدوں کے مندرجات سے بے خبر رکھا جا رہا ہے۔ جب کہ امریکی کارپوریشنوں، جیسے ہیلی برٹن، شیوران، فرما، کومکاسٹ اور موشن پکچر ایسو سی ایشن آف امریکہ کے نمائندوں سے مشورہ کیا جا رہا ہے اور اُنہیں معلومات دی جارہی ہیں۔ سیکیورٹی لوازمات کے حاصل کرنے کے دو ماہ بعد بھی میرے سٹاف کو USTR کی تجاویز کے مندرجات سے دور رکھا جا رہا ہے۔‘‘
جارج مونبیوٹ کے مطابق، امریکہ اور یورپی یونین کی بڑی کارپوریشنوں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے یورپی کمیشن کے ساتھ مل کر TTIP کو تحریر کیا ہے۔ جس نے بعد میں ’’ اس مسئلے پر سول سوسائٹی کے گروپوں (ٹریڈ یونین وغیرہ ) سے آٹھ اور کارپوریشنوں اور اُن کے ترغیب کاروں(لوبسٹ) کے ساتھ 119 میٹنگز کیں۔ سول سوسائٹی کی میٹنگز کے بر عکس یہ میٹنگز بند کمرے میں ہوئیں اور اُنہیں خفیہ رکھا گیا۔ ‘‘
TPP اور TTIP کے قواعد میں بد نام زمانہ انوسٹر ڈسپیوٹ سیٹلمنٹ میکنزم (ISDS) شامل ہے۔ ویکی پیڈیا کے مطابق، ’’یہ نجی کمپنیوں کو یہ حق دیتی ہے کہ جب بھی وہ یہ محسوس کریں کہ مختلف ریاستوں (جو معاہدے میں شامل ہیں) کے قوانین اور قواعد تجارت، پبلک مارکیٹ تک رسائی، سرمایہ کاری اور خدمات کی فراہمی میں غیر ضروری رکاوٹ (سرمایہ داروں کے لیے قواعد ہمیشہ رکاوٹ ہوتے ہیں) بن رہے ہیں تو وہ مقدمہ دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ قانونی چارہ جوئی قومی سطح پر نہیں بلکہ نجی ثالثی کے ذریعے نافذ کی جائے گی۔‘‘
دوسرے لفظوں میں ISDS متعلقہ بورژوا حکومتوں کی طرف سے خود اپنی خود مختاری پر حملہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ سامراجی اجارہ دارانہ سرمائے کے دور میں عالمی مارکیٹ ہی ہر چیز پر غالب ہے۔ مزدور تحریک کی جدوجہد کے نتیجے میں ہونے والی جمہوری قانون سازی کو محض عالمی معاہدوں کے ذریعے، جو پارلیمنٹ اور ٹریڈ یونینز کی مشاورت کے بغیر تشکیل دیئے گئے، منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ محض اپنے ہی قوانین پر عمل کرنے کی پاداش میں اگر کسی حکومت کے خلاف کوئی کمپنی مقدمہ دائر کرتی ہے تو اس کا فیصلہ نجی طور پر ہوتا ہے اور اپیل کا کوئی حق نہیں۔ مارٹن کور نے گلوبل ریسرچ میں کہا ہے، ’’کچھ وکلا عالمی ثالثی کے کاروبار پر قابض ہیں۔ وہ ایک مقدمے میں وکیل اور دوسرے میں ثالث ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو ثالث خود مقدمہ دائر کرنے والی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا ممبر تھا۔‘‘
اسی مصنف نے مزید کہا ہے، ’’اگر کامیاب مقدمے کے بعد بھی ادائیگی نہیں ہوتی تو زیر مقدمہ حکومتی اثاثوں کو ضبط کرکے یا اس ملک کی برآمدات پر محصولات بڑھا کر یہ کام کیا جا تا ہے۔‘‘ فطر ی طور پر یہ طاقت چند بڑی ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے فائدے میں جائے گی جو حکومتوں کو دھمکانے اور با اثر وکلا خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ اس طرح یہ عمل عالمی سطح پر سرما ئے کے ارتکاز کو مزید بڑھائے گا اور انہیں قومی ریاستوں کے قوانین، قواعد اور محصولات کو پچھاڑنے کے قابل بنائے گا۔
جدھر ISDS کے قواعد پہلے سے موجود معاہدوں کا حصہ ہیں وہاں یہ سب کچھ پہلے سے ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق، ’’ امریکی دوا ساز کمپنی Eli Lilly نے کینیڈا کی حکومت کے خلاف Nafta میں موجود ISDS کے شقوں کے ذریعے ان کی ایک ڈرگ پیٹنٹ (Drug Patent) کو منسوخ کرنے کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے حالانکہ کینیڈا کے قوانین کے مطابق وہ اس پیٹنٹ کے معیار پر پورا نہیں اُترتے تھے۔ ‘‘ فرینڈز آف ارتھ نے واضح کیا ہے، ’’نیفٹا‘‘ کے باب نمبر 11 کی بنیاد پر، امریکی کمپنی بون پائن ریسورسز نے کینیڈا سے 250 ملین ڈالر کا دعوی کیا ہے کیونکہ اس نے فریکنگ پر موریٹوریم کا اجرا کیا تھا۔‘‘
انٹر نیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹ نے ایکواڈور کو امریکی کمپنی کو 2.3 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا۔ ’’امریکی کمپنی رینکو نے پیرو کی حکومت سے 800 ملین ڈالر کے ہرجانے کا دعوی کیا کیونکہ حکومت نے کمپنی کی ماحول اور صحت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے پر معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ اسی طرح سرمایہ کاروں اور حکومت کے درمیان تنازعات کے سلسلے میں ایک اور معاملہ یورپی کانکنی کی کمپنی کا ہے۔ جس نے جنوبی افریقہ کی حکومت کی طرف سے سیاہ فاموں کو خود مختار بنانے کے پروگرام سے کمپنی کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کا دعوی کیا تھا۔ برطانوی تیل کمپنی نے انڈونیشیا سے 2 ارب ڈالر کا دعویٰ کیا تھا کیونکہ اس کے معاہدے کو قانون کی خلاف ورزی پر ختم کیا گیا تھا۔‘‘ (مارٹن کھور، گلوبل ریسرچ)
یہ مثالیں ان معاہدوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان سے یہ واضح ہے کہ تمام تر مثالوں میں امریکی کمپنیاں ہی خارجی حکومتوں کے خلاف مقدمہ دائر کر تی ہیں۔ تاہم یہ بات کہنالازمی ہے کہ TPP یا TTIP پر دستخط ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے کیونکہ بہت سارے مفادات آڑے آرہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی یہ دھمکی کہ اگر اسے چین کے خلاف استعمال کیا گیا تو وہ TPP سے الگ ہوجائے گا، صرف ایک مثال ہے۔ پچھلے چند دنوں میں جرمنی نے بھی کہا ہے کہ اگر ISDS کی شقوں کو شامل کیا گیا تو وہ TTIP سے الگ ہو جائے گا۔ اس کا اس چیز سے تعلق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی، کہ جرمن حکومت کو انرجی چارٹر ٹریٹی کے تحت سویڈن کی کمپنی ویٹن فال کی طرف سے مقدمے کا سامنا ہے کیونکہ اس نے ایٹمی توانائی کو بتدریج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات غیر اہم ہے کہ ان معاہدوں کا کیا ہوگا۔ یہ دو معاہدے مغربی سامراج کے فوجی مفادات کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر وہ ان پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو یہ ان کی داخلی کمزور ی کو ظاہر کرے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ مغربی سامراج کی چین کو قابو کرنے کی جد وجہد دراصل اپنے ہی زوال کو روکنے کی کوشش ہے۔
لیکن ISDS کے منصوبے طاقت کی نہیں کمزوری کی علامت ہیں۔ سرمایہ کاری حاصل کرنے کی ناکام کوشش میں قومی ریاستیں اپنے قوانین کی نفی کر رہی ہیں۔ یہ عمل سرمایہ کاروں کے اعتماد اور طاقت کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟ وہ تب اپنی طاقت کا احساس کریں گے جب انہیں قوانین اور قواعد کو پامال کرنے کی ضمانت دی جائے۔
بظاہر طاقت ور ترین نظر آنے والا اجارہ دار سرمایہ دار طبقہ حقیقت میں کمزور ہے۔ وہ اپنی مراعات کے بارے میں اتنے چوکنے ہیں کہ اپنا کام کرنے کے لیے (پیداواری سرمایہ کاری جو ان کے وجود کا جواز ہے) قوانین کے خلاف پکی ضمانت مانگتے ہیں۔ ISDS کو اس لیے لا یا جا رہاہے کیونکہ وہ عالمی معیشت اور بالخصوص یورپ میں شورش سے خوف زدہ ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ بائیں بازو یا انکی اپنی زبان میں ’پاپولسٹ‘ حکومت بر سر اقتدار آکر اُنہیں قواعد کی پابند یا انکی جائیداد کو ضبط ہی نہ کر لے۔ پہلے ہی اُنہوں نے ہوگو شاویز اور کرسٹینا کرشنر کی نیشنلائزیشن سے اپنی انگلیا ں جلا دی ہیں۔ وہ دنیا کی حکومتوں کو اُس طرف جانے سے پہلے ہی معاہدوں میں جکڑ دینا چاہتے ہیں۔
بائیں بازو کے بہت سے لوگ ISDS پر تنقید کرتے وقت ’نیولبرل ازم‘ سے پہلے کے ادوار کے بارے میں خیالی پلاؤ پکاتے ہیں، جب حقیقی جمہوریت تھی اور ہمیں اپنی ہر دل عزیز پارلیمانوں کا ان نیو لبرل حملوں کے خلاف دفاع کرنا چاہیے۔ لیکن ’نیو لبرل ازم سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ بیمار اور ضعیف سرمایہ داری صرف نجکاری، ڈیریگولیشن اور سٹہ بازی کے ذریعے ہی چل سکتی ہے۔ ریاست سے ’آزاد ‘ ہونے کی بجائے، سرمایہ داری کمک اور امداد کے لیے اسی کے پاس ہی جاتی ہے۔ قوانین سے استثنا اور مزدوروں کے حقوق سے انکار کرتی ہے۔
پوری دنیا کے محنت کشوں کا ان معاہدوں کے خلاف لڑنے میں مشترکہ مفاد ہے۔ جن کا مقصد مزدوروں کو اپنی دفاع سے روکنا ہے۔ لیکن اس طرح کی لڑائی کو قومی یا اصلاح پسندانہ انداز میں لڑنا ناممکن ہے۔ سرمایہ داری کے تحت بائیں بازو کی حکومت کو پھر بھی سرمایہ داری کے قوانین کے مطابق چلناپڑتا ہے جو سرمایہ کاری کے لیے ڈی ریگولیشن کا تقاضا کرتی ہے۔ سامراجی بورژوازی کی عالمی آزاد تجارت کے معاہدوں کے بر عکس ہم سوشلسٹ معیشتوں کی عالمی فیڈریشن کے لیے لڑ رہے ہیں جو چند ارب پتی افراد کی بجائے پوری دنیا کی ضروریات پوری کرے گی۔

متعلقہ:
پاک چین معاشی راہداریاں: ہمالیہ سے بلند دوستی یا لوٹ مارکے نئے راستے؟