ترکی میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر عالمی مارکسی رجحان (IMT) کا اعلامیہ

اردگان اور اس کی چور حکومت مردہ باد! انقلابی محنت کش اور نوجوان زندہ باد!

[تحریر: ایلن وڈز، 5جون 2013ء]
ترکی کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی شاندار تحریک ساری دنیا کے لیے مثال ہے۔ ایک شاپنگ مال کی تعمیر کے لیے درختوں کی کٹائی کے خلاف پر شروع ہونے والے پر امن مظاہرے اب اردگان کی وحشی اور رجعتی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے کے عوامی احتجاج کی موجوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جن کا کردار اورانقلابی سرکشی جیسا ہے۔
28 مئی 2013ء کو غازی پارک پر قبضہ کرنے کی تحریک کے مظاہرین پر پولیس نے وحشیانہ حملہ کیا جس کے بعد یہ تحریک، وزیر اعظم طیب اردگان کی اے کے پارٹی کی کرپٹ اور رجعتی حکومت کے خلاف ایک ملک گیر شورش کی شکل اختیار کر گئی۔ سرمایہ داری کے تجزیہ نگار حیرت زدہ ہیں۔ ترکی کی معیشت کی شرح نمو بلند رہی ہے اور اسے استحکام کا ماڈل سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اس سماجی دھماکے سے واضح ہوتا ہے کہ سطح کے نیچے بہت بے اطمینانی اور اضطراب موجود تھا۔
اے کے پارٹی 2002ء کے انتخابات میں بر سرِ اقتدار آئی تھی اور تب سے اس کے ووٹوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دہائی میں ترکی کی معاشی ترقی کے بلبوتے پر اردگان حکومت چلتی رہی لیکن اس ترقی سے غریبوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ساڑھے سات کروڑ کی آبادی میں سے امیر ترین 20 فیصد لوگ نصف سے زیادہ دولت کے مالک ہیں جبکہ غریب ترین 20 فیصد کے پاس صرف 6 فیصد ہے۔
ٹیکس کا غیر منصفانہ نظام سارا بوجھ محنت کشوں اور غریبوں پر ڈال دیتا ہے۔ نا برابری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ٹریڈ یونین جبر کا شکار ہیں اور حقوق غصب کیے جاتے ہیں۔ امیر اور غریب اور حاکم اور محکوم کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہے۔ تقسیم سکوائر کے واقعات تو محض وہ چنگاری ہے جس نے ایک دہائی سے تیار ہونے والے بارود کے ڈھیر کو آگ لگا دی ہے۔ اے کے پی کی حکومت بہت جابر اور غیر جمہوری ہے۔ اردگان بہت متکبر اور مطلق العنان ہے۔ اس نے ترکی کو شام کے خلاف جنگ کے بہت قریب لا کھڑا کیا جو غیر مقبول عمل تھا۔ وہ مذہبی قوانین مسلط کر رہا ہے جس سے ریاست کے سیکولر تشخص کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
معاشی ترقی کی بنیاد بڑے پیمانے کی بیرونی سرمایہ کاری تھی، جو سرکاری اثاثوں کی نجکاری کے ذریعے حاصل کی گئی لیکن ترکی پر بہت زیادہ بیرونی قرض چڑھ چکا ہے اور شرح نمو نہ قریباً جامد ہے، میعارِ زندگی میں گراوٹ آ رہی ہے۔
اردگان کے مطابق اس تحریک میں ’انتہا پسند‘ شامل ہیں لیکن در حقیقت اس کاکردار اور بنیاد بہت وسیع ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں ہونے والے بڑے عوامی مظاہروں میں محنت کش، طلباء، پینشن وصول کرنے والے، کرد، علوی اور استنبول کے آپس میں مخالف فٹ بال کلبوں فینر بیش، بیسی کاٹاس اور گالاٹاسارے کے حمایتی بھی شانہ بشانہ شامل ہیں۔ سوشلسٹ اور کمیونسٹ تنظیموں کے سرخ پرچم اتا ترک کی تصاویر کے ساتھ اور کردوں کا جھنڈا ترکی کے قومی پرچم کے ساتھ لہرا رہے ہیں۔ ماضی میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
کم از کم دو ہزار لوگ گرفتار اور تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس کا جبر جلتی پر تیل ثابت ہوا ہے۔ مظاہرے کم از کم سو شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ عوام پولیس کے خلاف لڑ رہے ہیں اور بعض مقامات پر پولیس کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
تحریک کئی اہم کامیابیاں حاصل کر چکی ہے۔ بعض مقامات پر پولیس کو پسپائی پر مجبور ہونا پڑا، اگرچہ وقتی طور پر ہی سہی۔ حکومت کونے میں لگ چکی ہے۔ اردگان کی پہلے روز پر تشدد دھمکیاں اب مفاہمت کی آواز میں بدل چکی ہیں۔ یہ چال پولیس کی آنسو گیس اور ڈنڈوں سے زیادہ خطر ناک ہے۔ اس کی جھوٹی اور منافقانہ ’مفاہمت پسندی‘ پر قطعاً بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
حکومت کی تمام پیش کشیں جھوٹی ہیں اور ان کا مقصد تحریک کو منقسم اور پسپاء کرنا ہے۔ حکومت کہ رہی ہے کہ وہ تقسیم سکوائر میں شاپنگ مال نہیں بنائیں گے اور اب وہاں صرف ایک مسجد تعمیر کی جائے گی۔ یہ اعلان استنبول کے عوام کی توہین اور انہیں اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔
ترکی کے عوام ایک حکمران ٹولے کے ہاتھوں اپنے جمہوری حقوق کی پامالی سے تنگ آ چکے ہیں، یہ ٹولہ بات تو اسلام کی کرتا ہے لیکن ان کا اصلی خدا پیسہ، ان کی مسجد سٹاک ایکس چینج ہے، بڑے ملاء لالچی اورسٹے باز ہیں۔ یہ حکومت ان ہی لوگوں کے مفادات کی محافظ ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
حکومت اب کہ رہی ہے کہ ’’پر امن مظاہرے کے حق کا احترام کرتی ہے‘‘ جبکہ پولیس اے کے پی کے فاشسٹ غنڈوں کے ساتھ مل کر سڑکوں پر نہتے مردوں اور عورتوں کو ’مظاہر کرنے کے جرم‘ میں میں تشدد، آنسو گیس اور گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے اور ہزاروں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
موجودہ مرحلے پر عوام کے بنیادی مطالبات جمہوریت اور سماجی انصاف کے ہیں لیکن جب تک حکومت اردگا ن اور اس کے ٹولے کے ہاتھ میں ہے جمہوریت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حقیقی جمہوریت کے لیے پہلی شرط انقرہ میں موجود بیٹھے کرپٹ بدمعاشوں کا صفایا ہے۔ بنیادی نعرہ یہ ہونا چاہیے :اردگان مردہ باد! چوروں اور جابروں کی حکومت مردہ باد!
عالمی مارکسی رجحان (آئی ایم ٹی) ترکی کے انقلابی محنت کشوں اور نوجوانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے جو اپنے حقوق کی خاطر بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ ہم باقی دنیا میں مزدور تحریک کو ترک حکومت کی جانب سے وحشیانہ پولیس تشدد کے خلاف مظاہروں کی کال دیتے ہیں۔ ان مظاہروں میںیہ مطالبات پیش کرنے چاہئیں:
۔ ریاستی جبر کا فوری خاتمہ اور ترک جیلوں میں قید مظاہرین اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوراً رہائی۔
۔ مظاہرین پر حملہ کرنے والے تمام عناصر کی فوراً گرفتاری اور سرِ عام مقدمہ، جن میں نہ صرف پولیس افسران اور ان کے AKP کے فا شسٹ ساتھی، بلکہ اس وحشیانہ جبر کا حکم دینے والے پولیس کے اعلیٰ حکام اور وزراء اور سب سے پہلے طیب اردگان شامل ہے۔
۔ مکمل جمہوری حقوق کی بحالی بشمول مظاہرے کا حق اور حقِ اجتماع۔
۔ ٹریڈ یونین پر تمام پابندیوں کا فوری خاتمہ، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیاسی سرگرمی پر پابندیوں کا فوری کاتمہ۔
۔ سنسر شپ کا خاتمہ، مظاہرین، ٹریڈ یونین، محنت کشوں اور طلباء کو میڈیا تک رسائی کی ضمانت تاکہ وہ آزادی سے ترک عوام کے سامنے اپنا مدعا پیش کر سکیں جن تک درست معلومات پہنچے نہیں دی جا رہیں اور حکومت ان سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے۔

ہم اتفاق کرتے ہیں کہ ہر جمہوری مطالبے کے حصول کے لیے لڑنا ضروری ہے۔ محنت کش طبقہ مکمل جمہوریت کی خواہش رکھتا ہے تا کہ سوشلزم کے لیے جدوجہد کی راہ ہموار کی جائے۔ لیکن انقلابی تحریک لازمی طورپر ان رسمی جمہوری مطالبات تک محدود نہیں رہی گی اور ان سے آگے بڑھے گی۔
ترکی کے عوام کو درپیش مسائل کو صرف وزراء اور حکومتیں تبدیل کر کے نہیں حل کیا جا سکتا۔ یہ مسائل محض پارلیمان، قوانین اور آئین کے سوالات نہیں ہیں بلکہ ان کی بنیاد سماج کی طبقاتی تقسیم پر ہے۔
جب ترک محنت کشوں کے خون پسینے سے تخلیق ہونے والی ساری دولت پر مٹھی بھر چور اور طفیلیے قبضہ جما لیں تو انصاف کیسے ہو سکتا ہے؟ جب تک زمینیں جاگیر داروں کی، بینک بینکروں کی اور صنعتیں نجی سرمایہ داروں کے ہاتھ میں رہیں گی، تب تک ترکی میں کسی قسم کا سماجی انصاف نہیں ہو سکتا۔
اردگان کی حکومت کے دوران نا برابری میں اضافہ ہو ا ہے۔ تقسیم میں شاپنگ مال بنانے کا منصوبے کو شہروں میں سٹے بازی پر مبنی تعمیرات کے کاروبار کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے محنت کش عوام کو شہر کے مضافات میں دھکیلا جا رہا ہے اور یہ زمین اور تعمیرات کے مشکوک سودوں کا حصہ ہے جس میں حکمران پارٹی کے قریبی لوگوں کو نوازا جاتا ہے۔ یہ شاپنگ مال امیر اور غریب کے درمیان کھلے تضادات کی نشانی ہے۔ یہ عمل انگیز کا کام کرتے ہوئے تمام تضادات کو سطح پر لے آیا ہے۔
حالیہ عوامی تحریک حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ لیکن حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے سڑکوں پر عوامی مظاہروں سے کچھ زیادہ درکار ہے۔ سماج میں سب سے طاقت ور قوت محنت کش طبقہ ہے۔ محنت کش طبقے کی اجازت کے بغیر نہ کوئی بلب جل سکتا ہے، نہ کوئی ٹیلی فون بج سکتا ہے اور نہ ہی کوئی پہیہ چل سکتا ہے۔
ترکی کا پرولتاریہ بہت مظبوط اور شاندار انقلابی روا یات کا مالک ہے۔ کچھ ہڑتالیں ہوئی ہیں لیکن تحریک کو متحد کرنے اور اسے ایک مرکزی حدف دینے کے لیے ایک مکمل عام ہڑتال کی کال دینے کی ضرورت ہے۔ ٹریڈ یونینوں کو یکجا ہو کر کسی ایک تاریخ کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ہر کارخانے، دفتر اور ورکشاپ میں جلسوں کا انعقاد کر کے مسائل پر بحث اور منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
انقلاب کی طاقتور مگر منتشر قوتوں کو منظم کرنے کے لیے ہر کارخانے، کالج، سکول، محلے اور گاؤں میں ایکشن کمیٹیاں بنانی چاہیءں۔ غیر منظم محنت کشوں اور کسانوں کی وسیع پرتوں کو ساتھ جوڑنا ہو گا، نوجوانوں، خواتین، کردوں اور دیگر مجبور پرتوں کو ساتھ ملانا ہوگا۔
ہر سطح پر جمہوری ایکشن کمیٹیوں کا قیام ضروری ہے یعنی مقامی، ضلعی، علاقائی اور قومی سطح پر۔ صرف اس طریقے سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے ہراول کردار انقلابی ترک عوام کے پاس رہے گا اور ترک انقلاب پر مصر کی طرح کوئی قبضہ نہیں کر لے گا۔
محنت کشوں اور کسانوں کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ انہیں لوٹنے والے اور ان پر ظلم کرنے والے ایسا قوم، جمہوریت یا مقدس قرآن کے نام پر کرتے ہیں۔ مصر کے عوام پہلے حسنی مبارک کی لوٹ مار اور جبر کا شکار تھے اور اب اخوان المسلمین لوٹ مار اور ظلم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ انقرہ اور قاہرہ میں بیٹھے ہوئے ڈاکو اور ظالم ایک ہیں، بلکہ واشنگٹن اور لندن والے بھی۔
ترکی کی انقلابی تحریک کے اثرات یورپ اور مشرق وسطیٰ دونو ں پر مرتب ہوں گے۔ ترکی میں ایک اسلامی قدامت پرست سرمایہ دارانہ حکومت کے خلاف عوامی تحریک دیگر ممالک میں اسلامی بنیاد پرستوں کو کمزور کرے گی اور تیونس اور مصر کی اسلامی حکومتوں کے خلاف انقلابی تحریک کی مضبوطی کا باعث بنے گی۔
ترکی کی بغاوت کی بنیادی وجوہات وہی ہیں جو مصر اور تیونس میں اسی طرح کے انقلابات کو بھڑکانے کا باعث بنی تھیں۔ یہ وجوہات سرمایہ داری کے عالمی بحران کے اثرات، اذیت ناک غربت کے ساتھ بے ہودہ امارت، بے گھری، نوجوانوں میں بے روزگاری اور امریکی سامراج کی حمایت یافتہ کرپٹ آمرانہ بورژوا حکومتیں ہیں جو اپنے بے پناہ دولت مند آقاؤں کی دولت میں مزید اضافے کے لیے عوام کے حقوق کو پامال کرتی ہیں۔
یونان، قبرص اور ترکی کے محنت کشوں اور یورپ، مصر اور ساری دنیا کے محنت کشوں کے مسائل سانجھے ہیں اور ان کی لڑائی بھی ایک ہی دشمن کے خلاف ہے۔ وقت آن پہنچا ہے کہ محنت کش عوام کی ایک مشترکہ بین الاقوامی جدوجہد میں متحد ہو کر سرمائے کی آمریت کے خلاف لڑا جائے، جو تمام انسانی ترقی کے راستے میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
ترکی میں عام عوام کی دلیری اور عزم نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ سماج میں ایک قوت ایسی بھی ہے جو کسی بھی ریاست، فوج، حکومت اور پولیس فورس سے زیادہ طاقتور ہے۔ یہ عوام کی طاقت ہے، جب وہ سماج میں تبدیلی کے لیے متحرک ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔

عالمی مارکسی رجحان ترکی کے انقلابی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
۔ ہم ترکی کے انقلابی محنت کشوں اور عوام کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
۔ اردگان اور اس کی چوروں کی حکومت مردہ باد!
۔ ایکشن کمیٹیاں بنا کر حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مکمل عام ہڑتال کی جانب بڑھو!
۔ مزدوروں اور کسانوں کی انقلابی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے!
۔ سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!
۔ دنیا بھر کے محنت کشو، ایک ہو جاؤ!