[رپورٹ: PTUDC لاہور]
مورخہ 31 جنوری بروز جمعہ جناح ہسپتال لاہور میں پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے زیر اہتمام ٹریڈ یونین راہنماؤں کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں متفقہ طور پر حکمرانوں کی مزدور دشمن پالیسیوں اور نجکاری کے خلاف جنگ کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں ریلوے لیبر یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری سرفراز خان، پی آئی اے میں پیپلز یونٹی سی بی اے یونین لاہور کے جنرل سیکرٹری حسین عباس، پی ٹی سی ایل ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر صابر بٹ، پاکستان اسٹیل کے لاہور زون کے سی بی اے یونین کے صدر افضال شاہ، مرتضیٰ محمود، پاکستان پوسٹ نوپ یونین کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری و جنرل سیکرٹری پنجاب ظفر اقبال، پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے راہنما ارشدبٹ، پیپلز لائرز فورم کے راہنما الیاس خان ایڈووکیٹ اور دیگر شریک تھے۔ اجلاس کی صدارت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے مرکزی صدر جاوید آہیر نے کی جبکہ لاہور کے مختلف ہسپتالوں کے دیگر ینگ ڈاکٹرز بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جن میں میو ہسپتال لاہور کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر تجمل بٹ، گنگا رام ہسپتال کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عمر شاہ، جنرل ہسپتال کے انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر ولید خان، سروسز ہسپتال کے انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر فرحان گوہر، جناح ہسپتال کے راہنما عدنان گوندل، ابوبکر گوندل، ڈاکٹر اعجاز ایوب اور دیگر شامل تھے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی جانب سے کامریڈ آدم پال، کامریڈ راشد خالد، ڈاکٹر آفتاب اشرف اور دیگر نے بھی بھرپور شرکت کی۔
اجلاس میں پی آئی اے، اسٹیل مل، ریلوے، ہسپتالوں اور دیگر تمام اداروں کی نجکاری کی بھرپور مذمت کی گئی اور اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا۔ صابر بٹ نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد 60 ہزار ملازمین کو نکالا جا چکا ہے جبکہ مزید کو نکالنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود منافع میں کمی آئی ہے جس کا نقصان سرکاری خزانے کو پہنچا ہے۔ ٹیلی فون کے کنکشن کم ہوئے ہیں جبکہ اتصلات نے ابھی تک نجکاری کی پوری رقم بھی ادا نہیں کی اور ادارے کی تمام زمین اپنے نام منتقل کروانے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پی آئی اے کے راہنماحسین عباس نے کہا کہ صرف چند افراد کو نوازنے کے لیے اتنے بڑے سرکاری ادارے کی بلی چڑھائی جا رہی ہے۔ پی آئی اے کے خسارے کی وجوہات حکمرانوں کی پالیسیاں ہیں جن کے باعث من پسند افراد کو ملازمین پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ کابینہ میں موجود وزرا کی اپنی ایر لائنیں ہیں جن کے منافع بڑھانے کے لیے سرکاری ادارے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت یہ نجکاری نہیں ہونے دیں گے۔ ریلوے لیبر یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری سرفراز خان نے کہا کہ ریل ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہ حکمران پاگل پن کی حد تک پہنچ گئے ہیں اور اس ادارے کو تباہ کر رہے ہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ نہیں کیا جاتا لیکن افسران کو نوازنے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ٹرینوں کی نجکاری کی گئی ہے ان پر تعینات عملہ اور دیگر سہولتیں ریلوے کا ادارہ ہی فراہم کر رہا ہے۔ ان کو دوبارہ سرکاری تحویل میں لیا جائے اور منافع خوروں سے نجات دلائی جائے۔ اسٹیل مل کے راہنماافضال شاہ نے نجکاری کی مذمت کی اور کہا کہ جان بوجھ کر اس ادارے کو تباہ کیا جا رہا ہے تا کہ لوہے کی نجی صنعتوں کو فائدہ پہنچایا جائے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں جبکہ اسٹیل مل کو اگر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دے دیا جائے تو نہ صرف یہ منافع بخش ادارہ بن جائے گی بلکہ کراچی کے بہت بڑے علاقے کی بجلی کی ضروریات بھی پوری کر سکے گی۔ پوسٹ آفس یونین کے راہنما ظفراقبال نے بھی نجکاری کی بھرپور مذمت کی اور وزارت نجکاری کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نون لیگ کی حکومت میں مزدوروں کی عدالتوں کو بھی تباہ کیا جاتا ہے اور اب بھی ایف ایس ٹی اور این آئی آرسی میں ججوں کو تعینات نہیں کیا جا رہا اور مزدور در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے راہنماؤں نے بھی نجکاری کی پالیسی کی مذمت کی اور کہا کہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انشورنس پالیسی جیسے عوام دشمن ہتھکنڈوں سے یہ بنیادی سہولت بھی غریب عوام سے چھین لی جائے گی جو ایک بہت بڑے قتل عام کے مترادف ہے۔ انہوں نے لیڈی ولنگڈن ہسپتال کو مسمار کرنے کے احکامات کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ نئے ہسپتال نہیں بن رہے اور دوسری جانب پہلے سے موجود ہسپتالوں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔
PTUDC کے راہنماڈاکٹر آفتاب اشرف نے تمام راہنماؤ ں کا شکریہ ادا کیا اور مزدور رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تا کہ جدوجہد کا مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے اور حکمرانوں کے خلاف محنت کش طبقے کو متحد کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محنت کشوں کے پاس سب سے بڑا ہتھیار ہڑتال ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں۔ نجکاری کی مزدور دشمن پالیسی کیخلاف پی آئی اے اور دیگر اداروں کی ہڑتال جدوجہد کا ایک اہم ہتھیار ہو گی جسے عوامی فلاح کے ان اداروں کو بچانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اجلاس میں نجکاری کیخلاف قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
اجلاس میں مندرجہ ذیل مطالبات اور فیصلہ جات متفقہ رائے سے منظور کئے گئے:
1۔ نجکاری کی ہر صورت کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نجکاری کمیشن و وزارت کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔
2۔ نجکاری کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے آغاز کے لئے ایک مزدور رابطہ کمیٹی کی تشکیل۔
3۔ نجکاری کیخلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ مال رو ڈ لاہور پر منظم کیا جائے گا جس میں تمام اداروں کے ملازمین بھرپور شرکت کریں گے۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس عمل کو باقی اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ جوڑنے کے لئے ان اجلاسوں کا انعقاد دیگر اداروں میں کیا جائے جس کے لئے اگلا اجلاس پی آئی اے میں رکھا گیا۔ اس کے بعد اسٹیل مل اور ریلوے میں بھی مزدور رابطہ کمیٹی کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور جدوجہد کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
اس اجلاس کے بعدپریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام مزدور راہنماؤں نے مندرجہ بالا فیصلہ جات کو پیش کیا اور حکمرانوں کو تنبیہ کی کہ وہ نجکاری کی عوام دشمن پالیسی کا خاتمہ کریں ورنہ محنت کش ان کے ظالمانہ نظام کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیں گے۔