لودھراں: نجکاری کے خلاف واپڈا کے محنت کشوں کا احتجاجی مظاہرہ

[رپورٹ: PTUDC لودھراں]
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) اور واپڈا ہائیڈرو ورکرزیو نین نے نجکاری کے خلاف مشترکہ ریلی واپڈا کمپلیکس سے فرید گیٹ تک نکالی۔ اس سے ایک دن قبل واپڈا ہائیڈرو یونین اور PTUDC کے کارکنان نے PTUDC کی 9 مارچ کو لاہور میں منعقدہ نجکاری مخالف ریلی کے پو سٹر پورے واپڈا کمپلیکس میں لگائے۔ ریلی میں سینکڑوں ملازمین نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت شفیع سلیم ملک الطاف اورریاض خان (ریجنل چیرمین ہائیڈرو یونین) نے کی۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ واپڈا کی نجکاری عوام سے غداری ہے جسکو کسی صورت قبول نہیں کیاجائیگا۔ اس محکمے کی نجکاری کر کے حکمران ہزاروں مزدوروں کوبے روزگار کر دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت واپڈا کی نجکاری کے فیصلے کوفوری طورپر واپس لیں اورملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیاجائے۔ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث آج ملک کاہرشہری اورملازم مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ مہنگائی کے باعث آئے روز ملک میں خودکشیوں میں اضافہ ہورہاہے۔ حکمران طبقہ اپنی مراعات میں کٹوتی کرنے کی بجائے مہنگائی میں اضافہ کرکے عوام کوزندہ درگورکررہاہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طورپرمہنگائی کے تناسب سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرے اوروعدے کے مطابق ورک چارج ملازمین کومستقل کیاجائے۔ مقررین نے کہا کہ حکمران طبقہ آئی ایم ایف ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ وہ صرف اور صرف اپنے سرمایہ دار طبقے کو نوازنے کیلئے نجکاری کر نا چاہتے ہیں تاکہ قومی ادارے بیچ کر الیکشن میں ان کیلئے پیسہ خرچ کرنے والوں کو خوش کیا جا سکے۔ عوام کو معیشت کی بھول بھلیوں میں دھکیلنے والے سر مایہ دار حکمران گردشی قر ضی کی مسلسل رٹ لگا ئے رکھتے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی گردشی قرضے کے پانچ سو ارب ادا کرنے کاکارنامہ قوم کو سنایا کہ اب لوڈشیڈنگ مسئلہ حل ہو جائیگا مگر لوڈشیڈنگ کا عذاب تو نہ ٹل سکا البتہ مہنگائی کا نہ تھمنے والا عذاب نازل ہوا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہو ئے کامریڈ یاسر ارشاد نے کہا کہ الیکشن سے پہلے نوازشریف اور شہباز شریف لوڈ شیڈنگ ختم کرنے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے۔ شہباز شریف نے گذشتہ دور میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف مینار پا کستان میں احتجاجی کیمپ بھی لگائے مگر اب گردشی قر ضی کی ادائیگی سے نہ صرف حکمران بلکہ ان کے تمام چمچے فیض یاب ہو تے ہیں۔ تمام آئی پی پیز کو قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دے دیا جائے تو ایک دن میں نہ صرف لوڈ شیڈنگ ختم ہوسکتی ہے بلکہ بجلی بھی سستی ہوجائے گی۔ مگر دولت کی ہوس میں اندھے حکمران اونے پو نے داموں پر قومی ادارے بیچ کر لوٹ مار کر بھا گنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ جب کسی منشیات کے عادی کی تمام جمع پونجی نشے کی نظر ہو جائے تو وہ گھر کے برتن بیچ کر نشے کی ضرورت پوری کرتاہے۔ یہی حال ان حکمرانوں کا ہے جنہوں نے آتے ہی 65 قومی اثاثوں کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اگر ہم حکمرانوں اور کارپوریٹ میڈیا کے پروپیگنڈے کا جائزہ لیں تو گذشتہ کئی سالوں سے مہم چلائی جارہی ہے کہ مزدور کام چور ہیں، یہ کام نہیں کرتے جس کی وجہ سے تمام قومی ادارے نقصان میں چلے گئے ہیں۔ یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ ان قومی اداروں کو محنت کشوں نہیں بلکہ حکمرانوں اور ان کے حواریوں نے لوٹا ہے۔ سرکاری اداروں کے ٹھیکوں سے لیکر سفارشی بھرتیوں اور بدعنوانی تک، تمام فیصلے مزدوروں نے نہیں بلکہ خود حکمرانوں نے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے قومی ادارے بیچنے کی روش نہ تبدیل کی تو طبقاتی لڑائی کھل کر شروع ہو گئی جس کا فیصلہ سڑکوں، کھیتوں، فیکٹریوں اور چوراہوں پر ہوگا۔ محنت کش طبقہ اگر ریاست کا نظام چلانا جانتا ہے تو اس نظام کا پہیہ جام بھی کرسکتا ہے۔ اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد ریلی کے شرکا پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔