کے این شاہ اور دادو میں مارکسی سکولوں کا انعقاد

| رپورٹ: ضیا زنور |

پروگریسو یوتھ الائنس (PYA) کے زیر اہتمام کے این شاہ اور دادو میں نوجوانوں کی نظریاتی تربیت کے لئے دو مارکسی سکول منعقد کئے گئے۔

دادو
مورخہ 5 جولائی کو دادو میں ایک روزہ مارکسی اسکول منعقد کیا گیا۔
پہلا سیشن ’’فلسفہء تاریخ‘‘ پر ہوا جس میں راشد زؤنر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے تاریخ سے متعلق مختلف مکاتب فکر کے نظریات بیان کئے ،انہوں نے کہا کہ تاریخ کو سمجھنے کا سائنسی طریقہ کار مارکس اور اینگلز نے تاریخی مادیت کی شکل میں وضع کیا۔تاریخی مادیت کے مطابق ذرائع پیداوار کی معیاری سطح کسی عہد کے مجموعی کردار کا تعین کرتی ہے، افراد اپنی تاریخ خود بناتے ہیں لیکن جن حالات میں وہ ایسا کرتے ہیں اس کا تعین وہ خود نہیں کرتے، سرمایہ داری سے سوشلزم تک کا سفر شعوری جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کریم جمالی، حنیف مصرانی اور امین جمالی نے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سیشن کو آگے بڑھایا۔

دوسرا سیشن ’’مشینری اور جدید صنعت‘‘ پر تھا جس پر لیڈ آف دیتے ہوئے رمیز مصرانی نے کہا کہ یہ مشین ہی تھی جس نے اوزار کو انسانی ہاتھ سے آزاد کر کے جدید صنعت کی بنیاد ڈالی لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں مشین کا مقصد انسانوں کی سہولت نہیں بلکہ محنت کشوں کے استحصال میں اضافہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مشین خود پیداوار نہیں کرتی بلکہ انسانی محنت ہی قدر پیدا کرتی ہے اور ٹیکنالوجی نے محنت کش طبقے کی طاقت اور شعور میں اضافہ ہی کیا ہے اور سوشلزم کے مادی حالات فراہم کئے ہیں۔ صدام خاصخیلی، بدر چنہ اور انور پہنور نے مشین اور جدید صنعت کے مختلف سماجی اور معاشی مضمرات پر روشنی ڈالی۔ اسکول کا سم اپ کامریڈ انور پنہور نے کیا۔ آخر میں انٹرنیشنل گا کر سکول کااختتام کیا گیا۔

کے این شاہ
مورخہ 5 جولائی کو، کے این شاہ میں مارکسی سکول ہوا جس میں تیس نوجوانوں نے شرکت کی۔

پہلے سیشن کا موضوع ’’عالمی و ملکی تناظر‘‘ تھا جس پر لیڈ آف دیتے ہوئے عیسیٰ چانڈیو نے کہاکہ امریکی سامراج سے لیکر چین تک کوئی بھی معیشت زوال پزیری سے محفوظ نہیں ہے،پسماندہ ممالک میں عوام کے حالات ابتر ہوتے چلے جارہے ہیں اور پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 60 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، سرمایہ داری کے تحت یہ معاشی گراوٹ مزید بڑھے گی اور اس نظام کو اکھاڑے بغیر انسانیت کے پاس آسودگی کی کوئی راہ نہیں ہے۔ آصف لاکھیر، اعجاز ببر اور اعجاز بگھیہ نے عالمی و ملکی تناظر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جس کے بعد سیشن کا سم اپ کیا گیا۔ دوسرا سیشن ’’پہلی عالمی جنگ‘‘ کے موضوع پر تھا۔ سیشن کو چیئر رشید بگھیہ نے کیاجبکہ بحث کا آغاز کرتے ہوئے کامریڈ رشید نے کہا کہ جنگیں سرمایہ دارانہ نظام کی نا گزیر پیداوار ہوتی ہیں جن کا حتمی مقصد شرح منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں بھی جرمنی، برطانیہ، فرانس، امریکہ کے محنت کش اور غریب سپاہی سرمائے کا لقمہ اجل بنے۔ دوسری انٹرنیشنل کی قیادت نے اس موقع پر سامراج کے گماشتوں کا کردار ادا کیا اور اس موقع پرستی کے خلاف لینن، ٹراٹسکی اور روزا لکسمبرگ نے جدوجہد کرتے ہوئے عالمی سوشلسٹ انقلاب کا نعرہ لگایا۔اس سیشن میں ماجد بگھیو، رفیق کھوسہ، وقار پنہور نے اظہار خیال کیا اور اعجاز بگھیو نے بحث کو سمیٹا۔ سکول کا اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔