| رپورٹ: راول اسد |
واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین نے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلہ میں ملتان میں بھی میپکو ہیڈکوارٹر کے سامنے مرکزی شاہراہ کو جام کر دیا اور احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ہائیڈرو ورکرز یونین کے عہدیداران چوہدری غلام رسول گجر، چوہدری خالد، سجادبلوچ، ملک سعید، شکیل بلوچ، اکرام علوی، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے آرگنائزر ندیم پاشا، مختیار بخاری، راشدامین، خوشی محمد، چوہدری جاوید، عابد علیم، فیاض بلوچ، رانا طیب، صمد سمی، اظہار خان، پروگریسو یوتھ الائنس (PYA) کے آرگنائزر نادر گوپانگ، مبشر خان، شیخ شاہداور دیگر نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت اپنے حواریوں کی جیبیں گرم کرنے کے لیے واپڈا کا ادارہ اونے پونے داموں انہیں دیناچاہتی ہے مگر واپڈا کے انقلابی محنت کش ایسا نہیں ہونے دینگے۔ حکمران
طبقہ اپنی ناکامیوں کاملبہ محنت کشوں کے کاندھوں پر ڈالنا چاہتا ہے، نجکاری کی صورت میں بڑے پیمانے پر ڈاؤن سائزنگ کی جائے گی، محنت کشوں کے پاس پہلے سے جو سہولتیں موجود ہیں انہیں واپس لیا جائے گا۔ سیفٹی کی عدم دستیابی کے باعث ہلاک ہوجانے والے محنت کشوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گا۔ اس حکومت کا نصب العین سرمایہ دارانہ پالیسیوں پر تیزی سے عملدرآمدہے جن کا تقاضا ہے کہ واپڈا سمیت دیگر قومی اداروں کی نجکاری کی جائے جس کے لئے ڈاؤن سائزنگ اور چھانٹیوں سمیت کنٹریکٹ لیبر کے معاملات کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ عوام ماضی میں کی گئی نجکاری کاخمیازہ بھگت رہے ہیں اور اب لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے نعرے کے تحت بجلی کے شعبے کی مزید نجکاری کی جا رہی ہے۔ بجلی کے کے مزدور اس سازش کو ناکام و نامراد بنانے کے لئے نا قابل مصالحت جدوجہد کرینگے، اور نجکاری کے کسی بھی
حربے کو کامیاب نہیں ہونے دینگے، چاہے وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا جھانسہ ہو یا کوئی اور طریقہ واردات۔ نجکاری کے خاتمے تک اب ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور ہر بدھ والے دن ہر سرکل، ڈویژن، سب ڈویژن میں کام چھوڑ ہڑتال کرینگے، دھرنے دینگے اور احتجاج کرینگے۔ PTUDC کے ساتھیوں نے سرخ جھنڈوں کے ساتھ احتجاج میں شرکت کی، نجکاری کے خلاف لیف لیٹ تقسیم کئے، پرچہ طبقاتی جدوجہداور مزدور نامہ فروخت کیا۔