جامعہ کشمیر مظفرآباد میں طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس

[رپورٹ: راشد شیخ]
22 نومبر کو جامعہ کشمیر مظفرآباد میں طلبہ تنظیموں کے نمائندگان کا اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس موجودہ طلبہ مسائل اور ان کے حل کے عنوان سے منعقد ہواتھا۔ اجلاس جامعہ کے کیفے میں منعقد کیا گیا جس میں تمام طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ کارکنان اور عام طلبہ نے بھی شرکت کی۔ یاد رہے کہ یہ وہ یونیورسٹی ہے جہاں اسی سال طلبہ نے طلبہ یونین بحالی کے لیے تحریک چلائی تھی اور الیکشن کروانے کی کو شش کی تھی جس کے نتیجے میں الیکشن کے روز انتظامیہ نے غیر معینہ مدت کے لیے چھٹیاں دے دی تھی، جامعہ کو پولیس کے کنٹرول میں دے دیا گیا تھا اور یونیورسٹی میں ہر قسم کی سیاسی سر گرمی پر پابندی لگا دی تھی۔ نئے داخلوں اور ابھرتے ہوئے مسائل کو دیکھ کر طلبہ نے ایک بار پھر لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا۔ خاص طور پر نئے آنے والے طلبہ کو انتظامیہ کے رویے اور اس تعلیمی نظام میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ میٹنگ میں ڈسٹرکٹ جنرل سیکرٹری P.S.F ماجد اعوان نے چیئر کے فرائض سر انجام دئیے۔ صدرجامعہ کشمیرP.S.F شاہنواز چوہدری، صدر جامعہ کشمیر پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن احسن خان، جامعہ کے آرگنائزر گلگت سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کامریڈ عابد بلتی، آرگنائزرجامعہ کشمیر JKNSF جنید علی، صدرجامعہ کشمیرJKNSF راجہ عاقب، صدرجامعہ کشمیرJKSLF خطیب خان، مرکزی جنرل سیکرٹری NSF ( قوم پرست) کامران بیگ اور دیگر نے میٹنگ میں موقف رکھاکہ آ ج طلبہ کو عمومی طورپرزیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان مسائل میں آئے روز اضافہ ہو تا جارہا ہے۔ بڑھتی فیسوں کے ساتھ ساتھ اور سہولیات میں کمی سے لیکرداخلے نہ ملنے کے مسائل وغیرہ سر اٹھا رہے ہیں۔ ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات ناکافی ہیں۔ لہذا طلبہ کو ان تمام مسائل کے حل کیلئے منظم ہو کر لڑنا ہو گا۔ اس سلسلہ میں ایک ایکشن کمیٹی بنائی گئی جو چارٹر آ ف ڈیمانڈ ترتیب دے کر طلبہ میں کیمپین کرے گی اور پھر اس کے بعد یہ چارٹر آ ف ڈیمانڈ انتظامیہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ طلبہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ میٹنگ کے آخر میں مرکزی صدرJKNSF کامریڈ راشد شیخ نے طلبہ تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ مسائل کے حل پر روشنی ڈالی جو کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی بدولت تعلیمی شعبوں میں جنم لینے والی منافع کی لعنت کے خاتمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا اس مقصد کے لئے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر منظم ہو کر لڑنا ہو گا۔