[رپورٹ: کامریڈارتقاء]
8
نومبر کو فیصل آباد آرٹس کونسل اور طبقاتی جدوجہد پبلیکیشنز کے زیر اہتمام کامریڈ ٹیڈ گرانٹ کی کتاب ’’روس:انقلاب سے رد انقلاب تک‘‘ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں طلبہ، محنت کش، اساتذہ اور خواتین نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت ماضی میں بائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھنے والے بزرگ کامریڈ افضل احسن رندھاوا نے کی اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض کامریڈ مجاہد نے سر انجام دیئے۔ کامریڈ آدم پال نے تقریب کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1917ء میں روس میں برپا ہونے والے کامیاب سوشلسٹ انقلاب نے مارکس اور اینگلز کے نظریات کو درست ثابت کیا۔ لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں روس کے محنت کشوں نے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا۔ سوشلسٹ انقلاب کے تحت قائم ہونے والی منصوبہ بند معیشت سے روس ایک پسماندہ ملک سے چنددہائیوں میں اپنی پیداواری صلاحیت میں جدید سرمایہ دارانہ ممالک کامقابلہ کرنے لگا اور ان ممالک سے خلائی سائنس، صحت، سیمنٹ، کوئلہ اور تیل کی پیداوار میں آگے نکل گیا۔ سویت یونین میں تما م سرمایہ دار مغربی ممالک اور جاپان سے زیادہ سائنسدان، ڈاکٹرز، انجینئرز اور ٹیکنیشنز تھے اور تعلیم، علاج، رہائش اور بجلی کی سہولیات تقریباً مفت تھیں۔ رد انقلاب کی وجوہات پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انقلاب کے فوری بعد 21سامراجی ممالک نے سویت یونین پر حملہ کر دیا جس سے بڑے پیمانے پر پارٹی کے کیڈرز انقلاب کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس کے علاوہ یورپ میں انقلابات کی پسپائی کے باعث سوویت یونین عالمی سطح پرتنہا ہوگیا۔ لینن نے کئی باراس حقیقت کااپنی تحریروں اور تقریروں میں اظہار کیا۔ 1918ء، 1919ء اور 1923ء میں جرمنی میں انقلابی صورتحال پیدا ہوئی لیکن نومولود کمیونسٹ پارٹیوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جرمنی میں انقلابات زائل ہوئے۔ روس کی پسماندگی اور انقلاب کی تنہائی نے روس میں بیوروکریسی کے پارٹی اور ریاستی معاملات میں عمل دخل کی راہ ہموار کی۔ سٹالن بیوروکریسی کے نمائندے کے طور پر پارٹی کے اندر اپنی جگہ مستحکم کرنے لگا۔ 1925ء میں چین، 1926 ء برطانیہ، فرانس اور 1931-37ء میں سپین کا انقلاب سٹالن کی مجرمانہ پالیسوں کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ ٹراٹسکی کو لینن کی وفات کے بعد سوویت یونین سے ملک بدر کر دیا گیالیکن ٹراٹسکی نے سٹالنزم کے خلاف بالشوازم کا علم بلند رکھا۔ 1936ء میں ٹراٹسکی نے اپنی کتاب ’’انقلاب سے غداری‘‘ میں سوشلسٹ انقلاب کی زوال پذیری کا سائنسی تجزیہ پیش کیا۔ کامریڈ آدم پال نے کہا کے موجودہ عہد میں بالشویک انقلاب عالمی سطح پر محنت کش طبقے کے لئے مشعل راہ ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد لا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر مصدق نے کامریڈ ٹیڈ گرانٹ کی کتاب پر اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مفصل کتاب ہے اور لمبی تحقیق کے بعد لکھی گئی ہے، کتاب پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کتاب کے آخر میں مذکورہ اہم شخصیات کا تعارف دیا جاناچاہیے تھا، انھوں نے طبقاتی جدوجہد پبلیکیشنز کو اس عہد میں دوسرا ایڈیشن شائع کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر نجیب شاہ نے کہا کہ تاریخ نے مارکس کے نظریات کو درست ثابت کیا ہے، انھوں نے کہا کہ محنت کش طبقے کو منظم کرنے والے نوجوانوں کا مارکسی نظریات پر عبورہونا ضروری ہے اور یہ کتاب نوجوانوں کی تربیت کے لئے نہایت اہم
ہے۔ کامریڈ ثقلین شاہ نے اس کتاب کی اشاعت کے لئے کامریڈ ز کی کوششوں کے بارے میں بتایااور کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے اور اس کی وحشت سے نجات کا واحد حل سوشلسٹ انقلاب ہے۔ آرٹس کونسل کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر طارق چوہدری نے کتاب کی اشاعت کو خوش آئند قرار دیا اورطبقاتی جدوجہد پبلیکیشنزکو مبارک باد پیش کی۔ تقریب کے آخر میں افضل احسن رندھاوا نے اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ میں کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر لال خان کے ان الفاظ سے اتفاق کرتا ہوں کہ جنازہ کسی اور کا تھا اور ماتم کسی اور کا کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سوشلسٹ انقلاب کا فریضہ نوجوانوں پر ہے اور انھیں اس جدوجہد میں ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کتاب کا پنجابی میں ترجمہ کروایا جائے تاکہ پنجاب کے اس اور اس پار محنت کش اور نوجوان اس سے مستفید ہو سکیں۔