| ر پورٹ: وقاص ملنگی |
مورخہ 19 اپریل بروز اتوار دن 11 بجے اسلام آباد پریس کلب میں ڈاکٹر لال خان کی کتاب ’’چین کدھر؟‘‘ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ اِس تقریب کے مہمانِ خصوصی کتاب کے مصنف ڈاکٹر لال خان تھے۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے ڈپٹی جنرل سیکٹری اکرم بُندہ، واپڈا ہائیڈرو یونین کے زونل چیئرمین ملک فتح خان، ریلوے لیبر یونین کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری راجہ عمران، PTDC
ایمپلائز یونین (CBA) کے صدر ماجد یعقوب اعوان، پیپلز لائرز فورم سے سجاد ملک ایڈووکیٹ، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (آزاد کشمیر)کے صدر حلیم ساجد، پاکستان پیپلز پارٹی کشمیرکے راولپنڈی زون کے صدر اسحاق میر، OGDCL مزدور یونین (CBA) اسلام آباد کے صدیق اعوان، واپڈا ہائیڈرو یونین اٹک زون کے جنرل سیکرٹری رحیم شاہ نے شرکت کی۔ پروگریسو یوتھ الائنس (PYA)، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JNKSF)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، بارانی یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں سے طلبہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
تقریب کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض PTUDC کے مرکزی رہنما چنگیز ملک نے ادا کیے۔ اس موقع پر ظفراللہ، یاسر ارشاد، حنا زین اور اکرم بُندہ نے اپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے چین میں پچھلی صدی
میں برپا ہونے والے مختلف انقلابات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے 1949ء کے انقلاب اور اس کے دنیا بھر میں مرتب ہونے والے سیاسی اور معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔ 1978ء میں سرمایہ داری کی بحالی کا پس منظر، وجوہات، چینی سماج پر اس کے اثرات اور گزشتہ تین دہائیوں میں عالمی سرمایہ داری میں چینی معیشت کے کردار پر بھی بات رکھی گئی۔
آخر میں کتاب کےُ مصنف ڈاکٹر لال خان نے کتاب لکھنے کی وجہ اور عہد حاضر اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج چین پوری دنیا کی ورکشاپ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس میں دنیا کا سب سے بڑا اور طاقت ور پرولتاریہ موجود ہے۔ مغربی کارپوریٹ اجارہ داریوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سستی اور ہنر مند لیبر کے تعاقب میں چین کا رخ کیا تھا اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی غداری نے
مرتی ہوئی سرمایہ داری کو کئی دہائیوں تک آکسیجن فراہم کی۔ اس دوران چینی افسر شاہی بذات خود سرمایہ دار طبقے میں تبدیل ہو گئی اور آج یہ کمیونسٹ ہے نہ پارٹی، بلکہ کھرب پتی مافیا سرمایہ داروں کا کلب ہے۔ 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے بعد سے مغرب میں منڈی سکڑ رہی ہے جس سے کھپت کم ہورہی ہے اور چین کی شرح نمو تیز گراوٹ کا شکار ہے جس کے سماجی و سیاسی اثرات واضح ہورہے ہیں اور بدترین ریاستی جبر کے باوجود چین کا محنت کش طبقہ میدن عمل میں اتر رہاہے۔ چین میں سالانہ ہڑتالوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور موجودہ صورتحال مستقبل میں بڑی انقلابی تحریک کا امکان واضح کرتی ہے۔ چین میں موجود خلفشاراور حکمران طبقے کے خلاف غم و غصہ آتش فشاں کی طرح سطح کے نیچے پک رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اگر چین میں انقلابی کیفیت جنم لیتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف جنوب ایشیا بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس تناظر کی روشنی میں ہمیں تنظیم کی مسلسل معیاری اور مقداری بڑھوتری کرنی ہو گی تاکہ ان غیر معمولی انقلابی لمحات میں موضوعی عنصر کا کردار ادا کرتے ہوئے متروک سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر سکیں۔ تقریب کا باقاعدہ اختتام مزدوروں کا عالمی ترانہ گا کر کیا گیا۔