کراچی میں ’’صدائے مستقبل‘‘ یوتھ کانفرنس

رپورٹ :عالم ایوب:-
آل پاکستان پروگریسو یوتھ الائنس (APPYA) کے زیر اہتمام 19مئی بروز ہفتہ بمقام نیشنل میوزیم نزد آرٹس کونسل کراچی میں صدائے مستقبل یوتھ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس کے مہمان خصوصی فیصل شیخ صد ر پی ایس ایف کراچی ڈویژن اور صدارت راشد خالد مرکزی آرگنائزربیروزگار نوجوان تحریک (بی این ٹی) نے کی۔دیگر مہمانانِ گرامی راشد شیخ مرکزی صدر JKNSF،بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن BSOکے وائس چئیرمین زبیر بلوچ،شہریار ذوق رہنما PSFجنوبی پنجاب،عمر رشید آرگنارئزرانقلابی کونسل زرعی یونیورسٹی فیصل آباد،اعجاز بگھیوصوبائی صدر BNTسندھ،انعم پتافی آرگنائزر YFISملتان تھی۔جبکہ کراچی کے مختلف تعلیمی اداروں کے ترقی پسند طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے پیپلز پارٹی کے راہنما سندھ کونسل کے ممبر اور ملیر سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر ریاض حسین بلوچ نے بھی خصوصی خطاب کیا اور نوجوانوں کے انقلابی جذبات اور ان کی جدوجہد کو سراہا۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہاکہ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔کسی بھی ملک، قوم اور سماج کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے نوجوان کتنے تندرست،ہنر مند اور تعلیم یافتہ ہیں۔آج سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی بحران کی وجہ سے نوجوانوں کی اکثریت جہالت، بیماری اور بیروزگاری کی اذیت میں تڑپ رہی ہے۔حکمران نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم اور کتاب چھین کر اسلحہ اور منشیات تھمارہے ہیں۔کراچی سمیت ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں قوم پرستی اور نان ایشوز پر طالب علموں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے۔تعلیموں اداروں میں اسلحہ کلچر کو عام کیا جارہاہے اور سیاسی جماعتیں غنڈہ عناصر کی سرپرستی کررہی ہیں۔حکمران طبقات کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔وہ اپنی لوٹ مار اور منافع خوری میں مگن ہیں۔ نوجوان نسل کی اکثریت کی مصیبتیں جتنی بڑھتی جارہی ہیں حکمران طبقات کی عیاشیاں بھی اتنی ہی بڑھتی جارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں نوجوانوں،طالب علموں اور محنت کشوں کی بغاوتوں کا آغاز ہورہا ہے ۔پاکستان میں بھی نوجوان نسل کے مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔
پروگرام کے آخر میں راشد خالد مرکزی آرگنائزر BNTنے خطاب کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ترقی پسند طلبا اور نوجوانوں کی تنظیموں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متحد ہوکر حا لات کا مقابلہ کریں۔حکمران ہمیں قومی، نسلی بنیادوں پر آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔ مگرہمیں طبقاتی بنیادوں پر متحد ہوکر اس نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا۔آل پاکستان پروگریسو یوتھ الائنس اسی بغاوت کا نقطہ آغاز ہے۔ ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں۔ایک راستہ منشیات، جرائم اور درندگی کا ہے اور دوسراجدوجہد اور انقلاب کا راستہ ہے۔ہم جدوجہد اور انقلاب کا پرچم لے کر آپ کے پاس آئے ہیں۔ہماری تمام باشعور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ اس کاروان کا حصہ بنیں تاکہ ظلم اور جبر پر مبنی اس سرمایہ دارانہ،جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کرکے ایک خوشحال اور سوشلسٹ معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرکے ہر سطح پر یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے،طلبا یونین پر پابندی ختم کرکے تمام تعلیمی اداروں میں طلبایونین کے انتخابات کرائے جائیں،دفاعی اخراجات،وزیروں،مشیروں کی تعداد اور مراعات کم کرکے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے،تمام بیروزگاروں کو روزگار دیا جائے یا دس ہزار روپے بیروزگاری الاؤنس دیا جائے،تعلیمی اداروں میں اسلحہ کلچر اور منشیات کا فوراً خاتمہ کیا جائے،تعلیمی اداروں میں ہاسٹلز،ٹرانسپورٹ اور لیبارٹریز کی سہولیات فراہم کی جائیں،تعلیمی اداروں کی نجکاری کی پالیسی کا خاتمہ کیا جائے۔