
اس دھرتی کو اس نگری کومیں ظلم کی نگری کہتا ہوں
آزادی کو گروی رکھ کے روٹی لینا پڑتی ہے
جس دنیا میں جینے کی یہ قیمت دینا پڑتی ہے
گلی گلی میں خون بہے اور قدم قدم پر انگ جلیں
زنجیروں میں جکڑے بچے حیوانوں کے سنگ پلیں
جہاں عورت مرد کی غیرت اور مرد ہی اس کو نوچتے ہیں
جہاں ملا بیٹھ کے مسجد میں لوگوں کے قتل کا سوچتے ہیں
اس دھرتی کو اس نگری کو میں ظلم کی نگری کہتا ہوں
اس دنیا کو انسانوں نے کچھ یوں آپس میں بانٹا ہے
نفرت سے لتھڑے آدم نے آدم کے خلق کو کاٹا ہے
حاکم کے کتے مفلس کی محنت کو دوش پہ پلتے ہیں
سب ہندو، مسلم، عیسائی، غربت کی آگ میں جلتے ہیں
یہاں ڈاکو رہزن ہیں رہبر اور عقل کے اندھے دانشور
سب کالے دھن کے رکھوالے، ہیں سب سے زیادہ طاقتور
اس دھرتی کو اس نگری کو میں ظلم کی نگری کہتا ہوں
جہاں روز اک بم دھماکے میں مسجد کو گرایا جاتا ہے
مذہب کے نام پر اکثر ہی مندر کو جلایا جاتا ہے
جہاں عالم علم سے عاری ہے اور جرم انصاف پہ بھاری ہے
سب جھوٹ لکھا ہے چہروں پر اور سچ کی پردہ داری ہے
انصاف چڑھا ہے سولی پہ قانون بھی اندھا بہرہ ہے
یہ لاشوں کی اک بستی ہے اور گِدھ جاتی کا پہرہ ہے
اس دھرتی کو اس نگری کو میں ظلم کی نگری کہتا ہوں
ذوالقرنین انجم